ڈھاکا میں طلبا اور تاجروں کا احتجاج، سڑکیں بند، ٹریفک نظام مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اتوار کے روز مختلف علاقوں میں احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہوگیا، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
موبائل فون تاجروں اور طلبہ تنظیموں نے شہر کے مصروف ترین مقامات فارم گیٹ، کاروان بازار کے سارک فاؤنٹین اور ہاتھیرپول سمیت کئی اہم چوراہوں کو بند کر دیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش پر بعض علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں متنازع بیان وائرل ہونے پر طلبا تحریک کے مقامی رہنما گرفتار
پولیس کی کارروائی، آنسو گیس اور لاٹھیاں استعمالپولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے آنسو گیس، ساؤنڈ گرینیڈ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس دوران مظاہرین نے بعض مقامات پر آگ لگائی اور پتھراؤ بھی کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
عوام شدید پریشان، پیدل سفر پر مجبوراحتجاج کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بڑی حد تک معطل رہی، جس کے نتیجے میں شہریوں کو طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے۔ اسپتال جانے والے مریضوں اور دفاتر پہنچنے والے ملازمین نے بتایا کہ جو سفر عام طور پر 20 منٹ میں طے ہو جاتا ہے، اس میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروع
ایک شہری نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو اسپتال لے جا رہا تھا لیکن سڑک بند ہونے کے باعث تقریباً ایک گھنٹہ پھنسے رہے۔ شاہ باغ جانے والے ایک تاجر نے کہا کہ اسے سامان اٹھا کر پیدل جانا پڑا اور مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
طلبہ کا احتجاج، بعد ازاں واپسیتیجگاؤں کالج کے طلبہ نے بھی صبح کے وقت فارم گیٹ پر احتجاج کیا، وہ اپنے ایک ساتھی شکیب الحسن رانا کی ہلاکت پر احتجاج کر رہے تھے، جو ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور 10 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگئے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد سڑک کھول دی گئی۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں دوپہر تک شدید ٹریفک جام رہا۔
تاجروں کے مطالبات، پولیس کا مؤقفپولیس کے مطابق موبائل فون تاجروں نے اپنے کاروبار سے متعلق متعدد مطالبات کے حق میں دھرنا دیا تھا۔ مظاہرین کے دوبارہ جمع ہونے کی کوششوں پر پولیس نے کئی بار مداخلت کی۔
ڈھاکا میں ٹریفک بحران معمول، مگر صورتحال سنگینڈھاکا میں سیاسی پروگراموں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران ٹریفک جام معمول کی بات ہے، تاہم اتوار کے روز ایک ہی وقت میں متعدد مرکزی شاہراہوں کی بندش نے شہریوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈھاکا میں طلبہ اور تاجروں کا احتجاج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈھاکا میں طلبہ اور تاجروں کا احتجاج ڈھاکا میں
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔