روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی امید؟ کیف میں عالمی طاقتوں کا بڑا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں یوکرین کے اہم اتحادی ممالک کے سکیورٹی مشیروں کا اجلاس ہوا، جس میں روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی ثالثی میں تیار کیے گئے امن منصوبے پر بات چیت کی گئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
اس اجلاس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت 15 ممالک کے نمائندوں کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے حکام نے شرکت کی۔
امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ یہ نیا سال شروع ہونے کے بعد ہونے والا پہلا اہم سفارتی اجلاس ہے، جبکہ منگل کو فرانس میں یورپی رہنماؤں کا ایک اور اجلاس متوقع ہے۔
یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف کے مطابق اجلاس کے ابتدائی مرحلے میں سکیورٹی ضمانتوں، امن منصوبے کے فریم ورک اور آئندہ مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد سرحدوں اور علاقوں کے معاملے پر شدید اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیںروسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی کوشش، یوکرین نے تردید کردی
پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کی ویڈیو جاری
روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور مشرقی دونباس پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ کسی بھی صورت میں علاقہ چھوڑنے سے روس کو مستقبل میں دوبارہ حملے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔
ادھر حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان حملے بھی جاری رہے۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ یوکرین نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نشانہ فوجی اہداف تھے۔
دوسری جانب روسی میزائل حملوں میں یوکرین کے مختلف شہروں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے نئے سال کے آغاز پر اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادت میں تبدیلیاں بھی کی ہیں، جسے ماہرین امن عمل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یوکرین کے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،