بٹ خیلہ(طارق سمیر) مالاکنڈ میں نادرا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر بڑے عوامی جلسے سے خطاب خیبر پختونخوا میں بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے، عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقامبٹ خیلہ:وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے، عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت نے 13 سالہ دور میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کچھ نہیں دیا، سال 2025 میں پاکستان نے کامیابیاں حاصل کی، بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو طوطہ کان، بٹ خیلہ مالاکنڈ میں نادرا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے طوطہ کان میں نادرا سینٹر کا افتتاح کیا. عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ سیاست بعد میں، لیکن پاکستان سب سے پہلے ہے، چار جنوری کو بٹ خیلہ کے علاقے طوطہ کان میں یہ عظیم الشان عوامی اجتماع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، ہزاروں افراد کا جوش و خروش کے ساتھ نکلنا اس تبدیلی پر عوامی مہر ثبت ہونے کے مترادف ہے. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے عوام سے بھرپور استقبال اور محبت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ جذبات صرف اپنی ذات نہیں بلکہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف، وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور پوری پارٹی قیادت کی جانب سے قبول کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع ہم 2025 میں پاکستان کو ملنے والی کامیابیوں کے نام کرتے ہیں، چاہے وہ دفاعی میدان ہو، معاشی محاذ ہو یا سفارتی سطح پر پاکستان نے جو پیش رفت کی ہے. وفاقی وزیر نے افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے بروقت فیصلوں کی بدولت پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کو شکست دی اور قومی وقار بحال کیا. انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو چاہیے کہ ان کامیابیوں پر افواجِ پاکستان اور قومی قیادت کو سلام اور داد دے. انہوں نے نئے سال 2026 کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سال پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں لے کر آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک بڑا مثبت چینج نظر آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جنہیں ماضی میں گمراہ کر کے ریاست اور اداروں کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا. انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سالہ دور میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پنجاب میں دانش اسکول بن سکتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیا یہاں کے غیور پختون نوجوانوں میں صلاحیت اور ٹیلنٹ کی کمی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیرِاعلیٰ لاہور کی گلیوں میں گھومنے کے بجائے اپنے صوبے میں تعلیم، صحت اور کسانوں کےلیے عملی اقدامات کرے. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں، یونیورسٹیوں میں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں اور صوبائی وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے منفی سیاست کےلیے استعمال کیا جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ صوبے کو ملنے والے این ایف سی وسائل عوام پر خرچ ہونے کے بجائے ملک دشمن بیانیے کو تقویت دینے میں لگائے گئے. مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ مذاکرات کی حامی رہی ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف نے بارہا بڑے دل کا مظاہرہ کیا، مگر مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب سامنے والا فریق پہلے پاکستان کو تسلیم کرے، نو مئی کے واقعات پر معافی مانگے اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز سیاست ترک کرے. انہوں نے کہا کہ جو قوتیں وہ کام کر رہی ہیں جو دشمن ملک بھی نہ کر سکا، ان کے ساتھ اصولوں کے بغیر بات چیت ممکن نہیں. انہوں نے چیلنج دیا کہ سرکاری وسائل کے بغیر، حکومت سے نکل کر عوام میں آئیں تو اصل مقبولیت کا اندازہ ہو جائے گا. ان کا کہنا تھا کہ حقیقی جلسے وہ ہوتے ہیں جو عوام اپنی جیب سے، اپنے جذبے سے کرتے ہیں، نہ کہ سرکاری مشینری سے. انجینئر امیر مقام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ایک موقع دیں. انہوں نے کہا کہ اگر ایک سال بھی موقع ملا تو عوام خود دیکھ لیں گے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں ترقی کیسے ہوتی ہے۔ انہوں نے سجاد خان اور دیگر مقامی رہنماؤں کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام کو پارلیمنٹ میں مضبوط آواز کی ضرورت ہے جو ان کے مسائل حقیقی معنوں میں اجاگر کرے.جلسہ عام میں پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہونے والے آیاز خان،آفرین ماچکنئ،احسان اللہ خان، سلطان روم باچا،بخت مولا،انور حیات خان، گل رحمان، نے آپنے خاندانوں سمیت ساتھیوں کے ہمراہ قائد محمد نواز شریف، مرکزی صدر محمد شہباز شریف اور صوبائی صدر مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا انجینیرامیرمقام پر اعتماد کرتے ہوئے مسلم لیگ شمولیت اختیار کی اس موقع پر ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) مالاکنڈ سجاد خان، جنرل سکریٹری گل زمان خان، سابق صوبائی وزیر و پارٹی سوات ڈویژن صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر مالاکنڈ ڈویژن جنرل سکرٹری محمد علی شاہ خان، سینئر نائب صدر فرید خان یوسفزئی ،سینئر نائب صدر ایصال خان، صوبائی جائینٹ سکرٹری نجیم خان، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کوآرڈینیٹر ارشد علی خان، سٹی صدر علی محمد خان، عبداللہ خان یوسفزئی ،آصف خان تیران، شفیق خان پراچہ،گل زمین خان صوبائی کوآرڈینیٹر لیبر ونگ، نورکرم میجر، یار محمد،ساب ناظم جاوید الف خان،نذیر حسین، و دیگر پارٹی عہدیداران، رہنما و کارکنان موجود تھے.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مسلم لیگ

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی