روزگار کی فراہمی ہماری حکومت کی ترجیح ہے، شمیمہ فردوس
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایم ایل اے راج پورہ غلام محی الدین میر نے کہا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں دستیاب اراضی کو روزگار پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی تخمینہ کمیٹی کی سربراہ شمیمہ فردوس کی قیادت میں ایک وفد نے صنعتی علاقوں کے کام کاج کا جائزہ لینے اور یونٹ ہولڈروں کے مطالبات اور شکایات سننے کے لیے ضلع پلوامہ کے مختلف صنعتی علاقوں کا دورہ کیا۔ سربراہ تخمینہ کمیٹی جموں و کشمیر اسمبلی شمیمہ فردوس، ایم ایل اے راجپورہ غلام محی الدین میر، تخمینہ کمیٹی کے ارکان اور محکمہ کے افسران و اہلکار وفد کا حصہ تھے۔ صنعتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے تخمینہ کمیٹی جموں و کشمیر اسمبلی کی ٹیم نے سمپورہ پامپور، انڈسٹریل اسٹیٹ پلوامہ اور وادی کی سب سے بڑی انڈسٹریل اسٹیٹ آئی جی سی لاسی پورہ کا دورہ کیا اور انڈسٹریل اسٹیٹس کے کام کاج کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ٹیم نے اسٹیٹس کے کام کاج، روزگار پیدا کرنے کے لئے نئے صنعتی یونٹس کے قیام کے لئے زمین کی دستیابی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا اور اسٹیٹس کو جدید بنانے کے لئے صنعتی یونٹ ہولڈرز کی شکایات اور مطالبات سنے۔ شمیمہ فردوس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے انڈسٹریل اسٹیٹس کو جدید بنانا این سی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونٹ ہولڈرز کے تمام مطالبات اور شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ایم ایل اے راج پورہ غلام محی الدین میر نے کہا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں دستیاب اراضی کو روزگار پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں بند یونٹس کو ترجیح دی جائے گی اور روزگار پیدا کرنے کے لئے دوبارہ کھولنے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روزگار پیدا کرنے انڈسٹریل اسٹیٹس پیدا کرنے کے لئے تخمینہ کمیٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔