ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کر دیئے۔
اپنے ٹوئٹ میں وزیرداخلہ نے کہا کہ اسلام آباد:ایف آئی اے نے تمام زونل دفاتر میں فوری طور پر ’پری ڈیپارچر فیسلی ٹیشن ڈیسک‘ قائم کر دیئے، ڈیسک کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کو امیگریشن کے طریقہ کار اور کلیئرنس سے متعلق رہنمائی اور معاونت فراہم کرنا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ مسافر ان ڈیسکس سے ذاتی طور پر، ہیلپ لائنز اور ای میل کے ذریعے رجوع کر سکتے ہیں، سہولت کی تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی مقامات اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔