مجرموں کیلئے ریاست کی طرف سے کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے؛ رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
سٹی 42: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں جو بھی بڑا منصوبہ نظر آئے گا اس کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کا نام ہوگا، ن لیگ کے دور میں ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔
ان خیالات کا اظہار رانا ثنا اللہ نے فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ فیصل آباد میں سڑک اور گیس کے متعدد منصوبے مکمل کیے گئے ہیں اور جو جائز کام ہے وہ ہر پاکستانی کا حق ہے جبکہ عوام کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 29 کلو میٹر طویل سڑک کی منظوری دی گئی ہے جس سے آمد و رفت میں آسانی ہوگی اور ایک ارب روپے کی لاگت سے بننے والی اس سڑک پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سوئی گیس ملک میں ختم ہو رہی ہے جس کے باعث حکومت نے قطر سے گیس کا معاہدہ کیا ہے، آر ایل این جی سوئی گیس سے مہنگی ہے جس کی وجہ سے بل زیادہ آئیں گے تاہم آر ایل این جی اس گیس سلنڈر سے سستی ہے جو عوام استعمال کر رہے ہیں،30 دیہات میں سوئی گیس کے افتتاح کیے جائیں گے اور جنہوں نے ووٹ دیا یا نہیں دیا، سب سوئی گیس کنکشن لگوا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ حق تلفی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کی انتقامی کارروائی کی جائے گی،فیصل آباد کے بڑے منصوبے جیسے چلڈرن ہسپتال اور یونیورسٹی ن لیگ کے ادوار میں بنے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنی یا ذاتی عناد پر کارروائی نہیں کی جاتی تاہم معاشرے کے ناسوروں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی، علاقہ غیر سے آنے والے آئس سمیت دیگر نشے پھیلانے والوں کے لیے کوئی رحم نہیں۔
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے منصوبے آگے بڑھیں گے، کمیاں دور ہوتی جائیں گی، بچیوں کا کالج اسی سال مکمل ہوگا اور اپنا چھت سکیم آن لائن اپلائی کرنے سے ملتی ہے، بجلی اور گیس کے منصوبے مرکزی حکومت متعارف کروا رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ خان نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 4 سالوں میں کچھ بھی نہیں کروایا گیا، سوشل میڈیا پر گالی گلوچ بریگیڈ بنائی گئی اور اوئے توئے کا کلچر متعارف کروایا گیا، ان کے خلاف ایسا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا سزائے موت ہے، اگر سزا مل رہی ہے تو یہ مظلومیت نہیں بلکہ مکافات عمل ہے کیونکہ نفرت کا بیج بویا گیا۔
لاہور کا موسم سرد ہوتے ہی مچھلی کی قیمتیں دگنی ہوگئیں
رانا ثنا اللہ نےکہاکہ ان لوگوں کے خلاف کیس بنانے کا ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں،میرےخلاف درج مقدمے کا کوئی تک نہیں بنتا تھا،میرے خلاف ایسا مقدمہ بنا جس کی سزا سزائے موت ہے،یہ مکافات عمل ہے اگر سزا مل رہی ہے تو یہ مظلومیت نہیں ہے نفرت کا بیج بویا گیا۔انہوں نے کہا کہ خدمت ہمارا منشور ہے اور نواز شریف نے خدمت کی سیاست کا رواج ڈالا۔ن لیگ کے دور میں امن و امان بہتر ہوا اور مجرموں کے لیے ریاست کی طرف سے کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔
رجب بٹ کی سالگرہ میں اہلیہ اور بیٹے کی عدم موجودگی، کئی سوالات اٹھ گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ نے نے کہا کہ سوئی گیس انہوں نے رہی ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔