کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
مقررین نے اس تاریخی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کیجانب سے امیر المومنین کیلئے ایک خصوصی اور الٰہی انتخاب قرار دیا اور کہا کہ خانۂ کعبہ میں ولادت حضرت علی کے بلند روحانی مقام اور اسلام میں انکے مرکزی کردار کی واضح دلیل ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
کرگل کشمیر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی پُرنور تقریب
اسلام ٹائمز۔ امیرالمومنین حضرت علی ابنِ ابی طالب (ع) کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ کی روح پرور تقریب وادی کشمیر کے سرحدی ضلع کرگل میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب جمعیۃ العلماء اثنا عشریہ کرگل کے زیرِ اہتمام حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل کے احاطے میں منعقد کی گئی۔ تقریب میں علماء کرام، دینی طلبہ، معزز سماجی شخصیات اور عاشقانِ اہلِ بیت (ع) کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی ذاتِ گرامی، ان کی بے مثال سیرت، عدل و شجاعت، علم و تقویٰ اور اسلامی تاریخ میں ان کے منفرد مقام پر مفصل روشنی ڈالی۔ علماء کرام نے حضرت علی (ع) کی ولادتِ مبارکہ کے اس منفرد اور عظیم الشان اعزاز کا ذکر کیا جو تاریخِ اسلام میں کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ اس موقع پر امام جعفر صادق (ع) کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا "امام علی ابن ابی طالب کی ولادت خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی، نہ آپ سے پہلے کسی کی ولادت وہاں ہوئی اور نہ آپ کے بعد، یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف علی (ع) کو عطا فرمایا"۔ مقررین نے اس تاریخی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے امیر المومنین کے لئے ایک خصوصی اور الٰہی انتخاب قرار دیا اور کہا کہ خانۂ کعبہ میں ولادت حضرت علی کے بلند روحانی مقام اور اسلام میں ان کے مرکزی کردار کی واضح دلیل ہے۔ تقریب کے دوران درود و سلام، منقبت خوانی اور دعائیہ کلمات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ آخر میں عالمِ اسلام، امن و اتحادِ امت اور خطۂ لداخ بالخصوص کرگل کے امن و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کعبہ کی پ رنور تقریب کرگل کشمیر میں جشن کی ولادت حضرت علی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔