data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن پاکستان اور دیگر تنظیموں نے وینزویلا کیخلاف جاری امریکی سامراج کی مسلح جارحیت کیخلاف اتوار کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں وینزویلا کے عوام کی سامراج دشمن مزاحمت سے اظہارِ یکجہتی اور امریکی جنگی جنون کی کڑی مذمت کی گئی۔احتجاجی مظاہرے میں شرکاء نے وینزویلا کے جھنڈے، لاطینی امریکا کے انقلابی رہنما ہوگو شاویز اور وینزویلا کے اغوا شدہ صدر نکولس مادورو کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ناصر منصور نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی سامراجی سرشت کے عین مطابق غزہ کے بعد وینزویلا پر مجرمانہ جنگ مسلط کر دی ہے۔ یہ ایک شرم ناک اور کھلی دہشت گردی ہے کہ ایک خودمختار ملک کے صدر کو طاقت کے زور پر اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی تسلط کیخلاف آواز بلند کر رہا تھا اور تیل و گیس کی آمدن کو عوام الناس کی بہبود کیلیے استعمال کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلط کردہ جنگ صرف وینزویلا کیخلاف نہیں بلکہ خطے اور پوری دنیا کے اْن تمام ممالک اور عوام کیخلاف کھلی دھمکی ہے جو سامراجی احکامات سے آزاد ہو کر اپنے مستقبل کا آزادانہ تعین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے عراق پر حملے، اس کے تیل پر قبضے اور وہاں کے عوام کی تباہی کو جواز فراہم کرنے کیلیے کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹ گھڑا تھا اب وہی امریکا ایک بار پھر نام نہاد منشیات کی اسمگلنگ کے بہانے صدر مادورو کی حکومت کو اسلحہ کے زور پر تبدیل اور دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا پر قبضہ اور لوٹ مار کو جائز ٹھہرانا چاہتا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان