مزدور تنظیموں کا امریکی سامراج کیخلاف پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن پاکستان اور دیگر تنظیموں نے وینزویلا کیخلاف جاری امریکی سامراج کی مسلح جارحیت کیخلاف اتوار کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں وینزویلا کے عوام کی سامراج دشمن مزاحمت سے اظہارِ یکجہتی اور امریکی جنگی جنون کی کڑی مذمت کی گئی۔احتجاجی مظاہرے میں شرکاء نے وینزویلا کے جھنڈے، لاطینی امریکا کے انقلابی رہنما ہوگو شاویز اور وینزویلا کے اغوا شدہ صدر نکولس مادورو کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ناصر منصور نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی سامراجی سرشت کے عین مطابق غزہ کے بعد وینزویلا پر مجرمانہ جنگ مسلط کر دی ہے۔ یہ ایک شرم ناک اور کھلی دہشت گردی ہے کہ ایک خودمختار ملک کے صدر کو طاقت کے زور پر اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی تسلط کیخلاف آواز بلند کر رہا تھا اور تیل و گیس کی آمدن کو عوام الناس کی بہبود کیلیے استعمال کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلط کردہ جنگ صرف وینزویلا کیخلاف نہیں بلکہ خطے اور پوری دنیا کے اْن تمام ممالک اور عوام کیخلاف کھلی دھمکی ہے جو سامراجی احکامات سے آزاد ہو کر اپنے مستقبل کا آزادانہ تعین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے عراق پر حملے، اس کے تیل پر قبضے اور وہاں کے عوام کی تباہی کو جواز فراہم کرنے کیلیے کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹ گھڑا تھا اب وہی امریکا ایک بار پھر نام نہاد منشیات کی اسمگلنگ کے بہانے صدر مادورو کی حکومت کو اسلحہ کے زور پر تبدیل اور دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا پر قبضہ اور لوٹ مار کو جائز ٹھہرانا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔