کانووکیشن محض اسناد کی تقسیم نہیں‘ طویل فکری سفر کا جشن ہے‘وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تعلیم کے حوالے سے اپنی حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم ہی ایک متوازن معاشرے اور مضبوط ریاست کی واحد ضمانت ہے۔ وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (اے آئی او یو)کے سندھ چیپٹر کے 2025کے کانووکیشن میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے، جو بحریہ آڈیٹوریم، کارساز، کراچی میں منعقد ہوا۔ گریجویٹس، اساتذہ اور والدین کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ کانووکیشن محض اسناد کی تقسیم نہیں بلکہ صبر، محنت اور امید سے بھرپور ایک طویل فکری سفر کا جشن ہے۔ وزیراعلی سندھ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ایک ایسے تعلیمی ادارے کا تصور پیش کیا جس نے وقت، فاصلے اور حالات کی رکاوٹوں کو توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اس وژن کی علامت ہے جہاں علم ایک ایسی روشنی ہے جو عام آدمی تک پہنچ کر سماج کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ آج یہ وژن ایک تناور درخت بن چکا ہے جو پاکستان بھر میں لاکھوں طلبہ کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ مراد علی شاہ نے ایک متاثر کن تاریخی واقعہ بھی بیان کیا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دورِ وزارتِ عظمی کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایک قلیل مدتی کورس میں داخلہ لیا تھا۔ ان کے بقول، یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ قیادت کی اصل خوبصورتی سیکھنے کے مسلسل عمل میں مضمر ہے۔ گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیرِاعلی سندھ نے کہا کہ ان کی اسناد کامیابی کی رسیدیں ہیں اور ان کی اندرونی طاقت اور قربانیوں کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ سماجی انصاف، برداشت اور انسانی وقار کے فروغ کی ذمہ داری کے طور پر لیں۔اپنی تقریر کے ایک جذباتی حصے میں وزیرِاعلی سندھ نے والدین کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ بچوں کی کامیابی کے پیچھے والدین کی خاموش قربانیاں ہوتی ہیں، جو اکثر اپنی ضروریات قربان کر کے بچوں کی تعلیم کے لیے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اور جامعہ کی فیکلٹی کو بھی سراہا جنہوں نے بے شمار چیلنجز کے باوجود علم کے چراغ کو روشن رکھا اور تعلیم کو ہر طالبِ علم کی دہلیز تک پہنچایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔