data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سندھ چیپٹر کا کانووکیشن بحریہ آڈیٹوریم کارساز کراچی میں منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔ تقریب کی میزبانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کی۔

کانووکیشن میں یونیورسٹی کے تمام ڈینز، اساتذہ کرام، فیکلٹی ممبران، پرنسپل افسران کے علاوہ سندھ بھر میں قائم یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر کے سربراہان، مختلف تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور ممتاز سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے تعلیمی تعلق اس ادارے کی عظمت اور وقار کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر اس جامعہ کی طالبہ رہ چکی ہیں، جو یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔

 وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس تعلیمی ادارے کا مقصد عام آدمی تک تعلیم پہنچانا مقرر کیا، اور ابتدائی دور میں یہ اوپن یونیورسٹی دنیا کی چند ابتدائی اوپن یونیورسٹیوں میں شامل تھی۔ آج فاصلاتی تعلیم عالمی سطح پر ایک حقیقت بن چکی ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سندھ میں معیاری اور قابل اعتماد تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہے اور اس وقت سندھ میں یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو عوام کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ یونیورسٹی کا نیٹ ورک کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں مزید وسعت پائے گا اور نئے ماڈل اسٹڈی سینٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو بھی معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔

کانووکیشن کے اختتام پر کامیاب طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں، جبکہ شرکاء نے تقریب کے شاندار انعقاد اور بہترین انتظامات کو سراہا۔

حماد حسین وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی یونیورسٹی کے کہا کہ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل