پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ نے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ایک تازہ حکومتی سروے کے مطابق پاکستانی گھرانے اپنی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ صرف خوراک اور بجلی و گیس پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور تفریح کے لیے بہت کم رقم بچ پاتی ہے۔ اس صورتحال میں غیر ملکی ترسیلات زر اور مالی امداد پر انحصار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

خوراک اور بجلی سب سے بڑا خرچ

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پاکستانی گھرانے اپنی مجموعی ماہانہ آمدن کا 63 فیصد صرف 2بنیادی ضروریات پر خرچ کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق 37 فیصد خرچ خوراک پر اور  26 فیصد خرچ رہائش، بجلی اور گیس پر ہوتا ہے۔

یہ شرح 2019 کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جو مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

تعلیم اور صحت پس منظر میں چلی گئیں

۔سروے میں انکشاف ہوا کہ تعلیم پر خرچ صرف 2.

5 فیصد رہ گیا ہے صحت پر 3.4 فیصد

تفریح پر محض 1.1 فیصد، تعلیم پر خرچ گزشتہ 6 سال میں تقریباً آدھا ہو چکا ہے، جبکہ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ تعلیم سے دگنا ہے، خاص طور پر امیر طبقے میں۔

آمدن بڑھی، مگر اخراجات اس سے زیادہ

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق اوسط ماہانہ آمدن 41 ہزار روپے سے بڑھ کر 82 ہزار روپے ہو گئی۔ لیکن اخراجات میں 19 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو آمدن کے اضافے سے زیادہ ہے۔

شہری علاقوں میں آمدن دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ رہی، جبکہ امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا۔

ترسیلات زر پر بڑھتا انحصار

سروے کے مطابق غیر ملکی ترسیلات زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا۔

تحائف اور مالی امداد 4.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ دیہی علاقوں میں ترسیلات زر پر انحصار دوگنا ہو چکا ہے، جو روزگار کے محدود مواقع اور معاشی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔

مہنگائی اور آئی ایم ایف شرائط کا اثر

ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافہ، 2 ہندسوں پر مشتمل مہنگائی اور  آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت ٹیکس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نے متوسط اور نچلے طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔

سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں عام شہری کی آمدن اگرچہ کاغذ پر بڑھی ہے، مگر مہنگائی نے اس اضافے کو بے اثر کر دیا ہے۔ بنیادی ضروریات کے بعد تعلیم، صحت اور ذہنی نشوونما کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں، جو ملک کے مستقبل کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجلی پاکستان پاکستانی بجٹ خوراک مہنگائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بجلی پاکستان پاکستانی بجٹ خوراک مہنگائی مہنگائی اور ترسیلات زر کے مطابق سروے کے کے لیے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ