کراچی میں مین ہول سے ملنے والی ماں اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل، مرکزی ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے مائی کولاچی میں مین ہول سے برآمد ہونے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی لاشوں کے دلخراش واقعے میں پولیس نے پیش رفت کرتے ہوئے مبینہ قاتل کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ واقعے کے پس منظر اور پوسٹ مارٹم کی تفصیلات نے قتل کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
کراچی پولیس نے مائی کولاچی کے قریب مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کے کیس میں مرکزی ملزم مسرور حسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے خاتون انیلا اور اس کے تین کم سن بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ انیلا ایک عرصے سے بچوں کے ساتھ تنہا رہائش پذیر تھی اور ڈھائی سال قبل شوہر سے طلاق کے بعد بچوں کی کفالت خود کر رہی تھی۔ واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے بہن سے رابطہ منقطع ہونے پر اس کے گھر جا کر تفتیش کی، جہاں تالا لگا ہوا ملا۔ بعد ازاں علاقے میں مین ہول سے لاشوں کی برآمدگی نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق چاروں لاشیں کئی روز پرانی تھیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ پولیس سرجن کے مطابق ایک لڑکے کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال تھی جس کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے آثار پائے گئے، جب کہ دوسرے لڑکے، جس کی عمر تقریباً 10 سال بتائی گئی، کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی۔ اسی طرح ایک 14 سے 15 سالہ لڑکی اور تقریباً 40 سالہ خاتون کی لاش پر بھی شدید تشدد کے نشانات پائے گئے۔
پس منظر کے طور پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر لاشیں مسخ شدہ حالت میں ملنے کے باعث ان کی شناخت اور موت کے وقت کے تعین میں مشکلات پیش آئیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ابتدا میں اندازہ تھا کہ لاشیں 10 سے 15 روز پرانی ہیں، تاہم مزید شواہد سے یہ مدت 15 سے 20 روز تک بھی ہو سکتی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے، قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیے اور کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے بھجوا دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد قتل کے محرکات اور دیگر ممکنہ کرداروں کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آئیں گے، جب کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔