تحریک لبیک یا رسول اللہ سندھ کے صوبائی لیگل ایڈوائزر کا پریس کلب کادورہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر ) تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان سندھ کے صوبائی لیگل ایڈوائزر و میڈیا ترجمان سلیمان سروری ایڈوکیٹ نے اپنے وفد کے ہمراہ اتوار کے روز پریس کلب حیدرآباد کا دورہ کیا اس موقع پر پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو ہار پہنائے اور مبارکباد دی وفد میں حافظ ذیشان ربانی,سید ناصر الدین قاضی, حاجی نذیر شیخ, یوسی چئیرمین یوسی 09 زاہد قادری و دیگر بھی شامل تھے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں سلیمان سروری ایڈوکیٹ نے کہا کہ صحافی دوست اپنے قلم کو طاقت بنائیں حق اور سچ سامنے لائیں انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پریس کلب نے ہمیشہ ظلم کے خلاف اپنا کردار ادا کیا اور امید ہے اس تاریخ کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک یارسول اللہﷺ پاکستان آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کلب
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔