ڈیمین مارٹن کوما سے باہر، ایڈم گلکرسٹ نے صحت یابی کو معجزہ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور عظیم بلے باز ڈیمین مارٹن گردن توڑ بخار کے باعث مصنوعی کوما سے ہوش میں آ گئے ہیں، جسے ان کے سابق ساتھی ایڈم گلکرسٹ نے ایک ’معجزہ‘ قرار دیا ہے۔
54 سالہ ڈیمین مارٹن، جنہوں نے 1992 سے 2006 کے درمیان 67 ٹیسٹ میچز اور 208 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے، گزشتہ ماہ کے آخر میں شدید علیل ہو گئے تھے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق معروف آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر کوما میں چلے گئے
سابق بلے باز میں میننجائٹس کی تشخیص ہوئی، جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو ڈھانپنے والی جھلیوں کی سوزش کی بیماری ہے۔
ایڈم گلکرسٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں حالات ناقابلِ یقین حد تک بدل گئے ہیں۔ ’وہ اب بات کرنے اور علاج کا جواب دینے کے قابل ہو گئے ہیں۔‘
https://Twitter.
کوما سے باہر آنے کے بعد ڈیمین مارٹن نے غیر معمولی طور پر مثبت ردِعمل دیا ہے، یہاں تک کہ ان کے اہلِ خانہ اسے کسی معجزے سے کم نہیں سمجھ رہے۔
ڈیمین مارٹن کو جلد ہی گولڈ کوسٹ یونیورسٹی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: جرمنی کے معروف فٹبالر سیباسٹین ہرٹنر لفٹ حادثے میں جاں بحق
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کرکٹ کی دنیا کی کئی نامور شخصیات نے ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کے پیغامات جاری کیے، جن میں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان سمیت بھارتی کرکٹرز روی چندرن اشون اور وی وی ایس لکشمن شامل ہیں۔
اپنے شاندار اسٹروکس کی وجہ سے پہچانے جانے والے ڈیمین مارٹن اسٹیو وا کی قیادت میں آسٹریلیا کی طاقتور ٹیم کا اہم حصہ رہے۔ انہوں نے 13 ٹیسٹ سینچریاں اسکور کیں اور ان کی اوسط 46.37 رہی۔
مزید پڑھیں:
وہ 2003 کے ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی حصہ تھے، جہاں فائنل میں بھارت کے خلاف رکی پونٹنگ کے ساتھ شراکت میں ناقابلِ شکست 88 رنز بنا کر ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
ڈیمین مارٹن نے 2006 میں ایشز سیریز کے دوران کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور اس کے بعد وہ زیادہ تر منظرِ عام سے دور رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈم گلکرسٹ ایشز سیریز ڈیمین مارٹن کرکٹ کوما گولڈ کوسٹ یونیورسٹی اسپتال
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈم گلکرسٹ ایشز سیریز ڈیمین مارٹن کرکٹ کوما گولڈ کوسٹ یونیورسٹی اسپتال ڈیمین مارٹن
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔