بنگلہ دیش میں 2 اہم دریائی راستوں پر گہری دھند کے باعث فیری سروس کئی گھنٹوں کے لیے معطل رہی، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں و ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عہدیداروں کے مطابق، رات کے وقت چھائی ہوئی شدید دھند کے باعث دولتدیا، پاتوریا روٹ (راجباری اور منیک گنج کو ملاتا ہے) اور آریچہ کازیراہت روٹ (منیک گنج اور پبنا کو جوڑتا ہے) پر فیری آپریشنز روک دیے گئے، تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔ یہ سروسز اتوار کی آدھی شب کے بعد بند کی گئیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش قومی انتخابات سے پہلے 28 فیصد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد

دولتدیا، پاتوریا روٹ پر فیری سروس قریباً 7 گھنٹے بعد پیر کی صبح دوبارہ شروع ہوئی، جبکہ آریچہ، کازیراہت روٹ قریباً 10 گھنٹے بعد دوبارہ کھولا گیا۔ دونوں چینلز پر مسافر کشتیوں کی سروس بھی قریباً 13 گھنٹے معطل رہی۔

بنگلہ دیش ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کارپوریشن (BIWTC) کے عہدیداروں کے مطابق، کئی فیری جہاز دھند کے باعث وسطی دریا میں رکے ہوئے رہے اور عملہ حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتا رہا۔

انتظامیہ نے بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتوں سے رات کے وقت شدید دھند کی وجہ سے رودخانه پدما کے راستوں پر نیویگیشن اکثر متاثر ہو رہی ہے، جس سے مال و مسافر کی نقل و حمل میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے پر غور کرنے لگی

بنگلہ دیش ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی (BIWTA) کے ٹریفک سپروائزرز نے کہا کہ دھند کی شدت کے باعث فیری سروسز کی بار بار معطلی اب ناگزیر ہو گئی ہے اور اس کے نتیجے میں دونوں کناروں پر لمبی قطاریں اور تاخیر پیدا ہوئی ہے۔

دریائی ٹرانسپورٹ بنگلہ دیش میں اہم رابطے کا ذریعہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پل محدود ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ مسافروں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے موسمی حالات پر کڑی نظر رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش فیری سروس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش فیری سروس بنگلہ دیش فیری سروس کے باعث

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟