پاک فوج کے افسر کی قربانی، کیپٹن عصمد گلفام شہید لاہور میں سپرد خاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: کیپٹن عصمد گلفام شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی شہر لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
برزل ٹاپ پر ریسکیو آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن عصمد گلفام شہید کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لاہور، آئی جی پنجاب پولیس، سینئر عسکری و سول افسران اور عوام کی بڑی تعداد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
کیپٹن عصمد گلفام اُن افسروں میں شامل تھے جو وردی کو صرف نوکری نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری سمجھتے تھے۔ 3 جنوری کی صبح دو بجے، شدید سردی اور جان لیوا موسم کے باوجود، کیپٹن عصمد گلفام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ برف میں پھنسی سنو وہیکل کو ریسکیو کرنے میں مصروف تھے۔ اچانک برفانی سلائیڈ کےباعث کیپٹن عصمد گلفام اور ان کے دو ساتھی شہید ہو گئے۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
کیپٹن عصمد گلفام نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر یہ پیغام دیا کہ اس قوم کے محافظ ہر محاذ پر دفاعِ وطن کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ شہید کیپٹن عصمد گلفام کی قربانی کو پوری قوم سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔