سوڈان میں خانہ جنگی مزید خونریز: دارفور میں ایک ہفتے کے دوران 114 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم: سوڈان میں جاری خانہ جنگی ایک بار پھر شدید مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں مغربی خطے دارفور میں صرف ایک ہفتے کے دوران ہونے والے فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 114 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تازہ واقعات نے نہ صرف مقامی آبادی کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ یہ تنازع تیزی سے ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہلاکتیں سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔ دارفور کے مختلف شہروں میں ہونے والے ان حملوں میں عام شہری براہ راست نشانہ بنے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگی کارروائیاں اب محض عسکری اہداف تک محدود نہیں رہیں بلکہ آبادی والے علاقوں تک پھیل چکی ہیں۔
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی دارفور کے شہر الزرق میں ہونے والے ڈرون حملے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے، جہاں کم از کم 51 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب شہر کے بازار اور رہائشی علاقے معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
مقامی افراد کے مطابق دھماکوں کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور درجنوں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی، تاہم محدود سہولیات کے باعث کئی جانیں بچانا ممکن نہ ہو سکا۔
الزرق شہر اس وقت ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں ہے اور اطلاعات کے مطابق تنظیم کے سربراہ کے اہل خانہ بھی اسی علاقے میں مقیم ہیں، جس کے باعث اس شہر کی اسٹریٹیجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب چاڈ کی سرحد کے قریب واقع شہر کرنوی اور اس کے اطراف میں بھی شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جہاں آر ایس ایف کے جنگجوؤں کی کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 63 افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جب کہ کئی شہری تاحال لاپتا ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ یا تو ملبے تلے دب گئے ہیں یا جنگی حالات کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے سوڈان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں کے مطابق دارفور اور کردفان کے علاقوں میں جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں شہریوں کو خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی راہ ہموار نہ کی گئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔