data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: قومی سائبر سیکورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (پی کے سرٹ) اور عالمی شہرت یافتہ روسی سائبر سیکورٹی کمپنی کیسپرسکی کے درمیان باضابطہ شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس معاہدے کا مقصد پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنا، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو محفوظ بنانا اور قومی سطح پر سائبر مزاحمت کو فروغ دینا ہے۔ متعلقہ ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شراکت داری پاکستان کے سائبر سیکورٹی فریم ورک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

معاہدے کے تحت پی کے سرٹ اور کیسپرسکی مشترکہ طور پر تربیتی اور آگاہی پروگرام شروع کریں گے، جن کا ہدف سرکاری اداروں، حساس تنصیبات، نجی شعبے اور تکنیکی ماہرین کو سائبر سیکورٹی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پروگرامز کے ذریعے سائبر حملوں کی شناخت، بروقت ردِعمل اور ڈیجیٹل خطرات سے بچاؤ کی عملی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس تعاون کا ایک اہم پہلو سائبر خطرات سے متعلق معلومات اور انٹیلی جنس کا پیشہ ورانہ تبادلہ بھی ہے، جس سے پاکستان کو عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے سائبر رجحانات اور حملوں کی نوعیت سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے گی۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل سرٹ کے مطابق کیسپرسکی کے ساتھ یہ شراکت داری قومی سائبر سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سائبر جاسوسی، ڈیٹا لیک، اہم تنصیبات پر ڈیجیٹل حملے اور غلط معلومات پر مبنی مہمات سنگین خطرات کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور جدید حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل نظام پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث قومی سلامتی اور معاشی استحکام کا دارومدار بھی سائبر سیکورٹی پر بڑھتا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس شراکت داری کے نتیجے میں پاکستان میں سائبر حملوں کی نگرانی، تجزیہ اور روک تھام کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ پی کے سرٹ اور کیسپرسکی مل کر ایسے میکانزم تیار کریں گے جن کے ذریعے حساس سرکاری اور نجی ڈیٹا کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ سائبر حملے کی صورت میں فوری اور مربوط ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر ڈیجیٹل آگاہی بڑھانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ عام صارفین بھی آن لائن خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔

کیسپرسکی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کے تحفظ کے لیے مضبوط سائبر سیکورٹی ناگزیر ہے اور پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ملک میں یہ ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق پی کے سرٹ کے ساتھ تعاون پاکستان کی محفوظ ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو نہ صرف موجودہ خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سائبر حملوں، ڈیٹا چوری اور ڈیجیٹل جاسوسی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل سروسز، ای گورننس اور آن لائن معیشت کے فروغ کے ساتھ سائبر سیکورٹی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سائبر سیکورٹی کے شراکت داری پی کے سرٹ خطرات سے کے مطابق کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی