سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کر دی۔
مسابقتی کمیشن کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل مسابقتی کمیشن عصمہ حامد نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے کمیشن کے بجائے ٹریبونل کو ریمانڈ کیا، ہم چاہتے ہیں آرڈر میں ٹریبونل کے بجائے کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کر دیتے ہیں۔
جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسابقتی کمیشن میں کیسز سالوں سے زیر التواء رہتے ہیں۔
مسابقتی کمیشن کے چار ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کے کیس کی سماعت کی، جس میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر دو ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔ چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر ہوا، اس لیے ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار حاصل رہا۔
درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں کیس دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ چیئرمین کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور پھر دوبارہ فیصلہ کن ووٹ دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی پہلو پر ہو سکتا ہے، اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسابقتی کمیشن سپریم کورٹ نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔