پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا آج یوم پیدائش منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سیاست کو اونچے محلات سے نکال کر گلی کوچوں تک لانے والے اور پاکستان کی قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو پہلے عوامی لیڈر تھے جنہوں نے قوم کو جمہوریت کی پہچان دی اور عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی، وطن عزیز کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وکالت کو پیشے کے طور پر اختیار کیا، بھٹو سکندر مرزا کی کابینہ کے رکن جبکہ ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ بنے۔1967ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر عام انتخابات میں عوام کا بھرپور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے، بھٹو کے دور اقتدار میں پاکستان کا آئین بنایا گیا، جوہری پروگرام شروع ہوا، سٹیل مل اور قومی پیداواری ادارے بنے۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور امن و امان کی صورت حال کو جواز بنا کر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو ایک مقدمہ قتل میں ملوث کر کے سزائے موت دلوا دی، 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی حکم پر تختہ دار پر لٹکا کر عوامی سیاست کی بساط کو لپیٹ دیا گیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے مقدمے کا جائزہ لیا اور عدالتی عمل کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ذوالفقار علی بھٹو
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔