data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-02-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ناظم آبادکی جانب سے اساتذہ کے لیے ٹائم اسکیل کا تاریخی اقدام کیا گیا۔ چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر، وائس چیئرمین محمد نعمان صدیقی اور میونسپل کمشنر اطہر سعید خان کی قیادت میں تعلیمی شعبے کے لیے15 برس بعد عملی پیش رفت کی گئی۔ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ناظم آبادکی جانب سے شعبہ تعلیم میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے ٹائم اسکیل کے لیٹرز کی تقسیم کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ اس تاریخی اقدام کی قیادت چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر نے کی، جس پر اساتذہ نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر نے کہا کہ یہ ہماری پالیسی کا حصہ اور اساتذہ سے وعدہ بھی تھا کہ ہم ان کے ساتھ ہونے والی ماضی کی ناانصافیوں کا ازالہ کریں گے۔ پچھلے ادوار میں اساتذہ کو ٹائم اسکیل سے محروم رکھا گیا، حالانکہ ہم نے عوام اور اساتذہ سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں ان کا جائز حق دیا جائے گا۔ الحمدللہ آج ہم نے اس وعدے کی عملی تکمیل کا آغاز کر دیا ہے۔ناظم آباد ٹاؤن کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اس وقت 136 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جنہیں مرحلہ وار ٹائم اسکیل دیا جائے گا۔ وائس چیئرمین محمد نعمان صدیقی نے کہاتقریباً 15 برس بعد ناظم آباد ٹاؤن میں اساتذہ کے لیے ٹائم اسکیل کا مسئلہ حل ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ وہ اساتذہ جو ٹائم اسکیل سے محروم تھے اور ریٹائرمنٹ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، ان میں سے ابتدائی مرحلے میں تقریباً آٹھ اساتذہ کو ٹائم اسکیل کے لیٹرز فراہم کر دیے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ کراچی کے بعض اضلاع میں ماضی میں ٹائم اسکیل دیا گیا، مگر ڈسٹرکٹ سینٹرل کے کسی بھی ٹاؤن میں یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی،ناظم آباد ٹاؤن پہلے بھی ڈسٹرکٹ سینٹرل میں فائنل اسسٹنس دینے والا پہلا ٹاؤن تھا، اور اب الحمدللہ ٹائم اسکیل دینے والا بھی پہلا ٹاؤن بن گیا ہے۔میونسپل کمشنر اطہر سعید خان نے کہاہم نے ترجیحی بنیادوں پر انہی اساتذہ کو منتخب کیا ہے جو جلد ریٹائر ہو رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ٹائم اسکیل کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں مزید اساتذہ کو بھی ٹائم اسکیل دیا جائے گا۔

چیئرمین ناظم آباد محمدمظفر شعبہ تعلیم میںخدمات انجام دینے والے اساتذہ کرام کوٹائم اسکیل کے لیٹر ز تقسیم کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرمین ناظم ا باد ناظم ا باد ٹاو ن ٹائم اسکیل کے اساتذہ کو

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟