Jasarat News:
2026-07-24@04:38:57 GMT

شوگر ملز کیس، فریقین کو نوٹس جاری، سماعت ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-08-18
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کر دی۔ مسابقتی کمیشن کی عدالت عظمیٰکے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیل مسابقتی کمیشن عصمہ حامد نے دلائل میں کہا کہعدالت عظمیٰ نے کمیشن کے بجائے ٹریبونل کو ریمانڈ کیا، ہم چاہتے ہیں آرڈر میں ٹریبونل کے بجائے کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کر دیتے ہیں۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسابقتی کمیشن میں کیسز سالوں سے زیر التواء رہتے ہیں۔ مسابقتی کمیشن کے چار ممبران نے درخواست گزار شوگر ملز کے کیس کی سماعت کی، جس میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر دو ممبران نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔ چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر ہوا، اس لیے ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار حاصل رہا۔ درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں کیس دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ چیئرمین کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور پھر دوبارہ فیصلہ کن ووٹ دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی پہلو پر ہو سکتا ہے، اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے گا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسابقتی کمیشن

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن