شدید دھند کے باعث کئی پروازیں منسوخ،متعدد تاخیر کا شکا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
عمران اسلم :دھند کے باعث فیصل آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کے اوقاتِ کار متاثر ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ملکی اور غیر ملکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق فیصل آباد سے دبئی، شارجہ، جدہ، ابو ظہبی اور کراچی جانے والی پروازیں مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکیں۔
فیصل آباد سے دبئی کی دو طرفہ پروازیں ایف زیڈ 391 اور ایف زیڈ 392 تقریباً دو گھنٹے تاخیر کا شکار رہیں، جبکہ شارجہ کے لیے دو طرفہ پروازیں جی نائن 562 اور جی نائن 563 بھی دھند کے باعث متاثر ہوئیں۔
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
ایئرپورٹ حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی پروازوں کی روانگی اور آمد کا شیڈول بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے قبل اپنی پروازوں کے تازہ ترین اوقات معلوم کر لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔