افغانستان میں مشتبہ افراد کی حراست سے متعلق طالبان کا نیا حکم نامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت شک کی بنیاد پر افراد کو حراست میں رکھنے کی مدت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی اجازت کے بغیر کسی بھی زیرِ حراست شخص کو رہا نہیں کیا جا سکے گا۔ نئے فیصلے کے تحت سیکیورٹی اداروں کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ فرد کو زیادہ سے زیادہ 10 دن تک حراست میں رکھ سکیں۔ اس سے قبل مشتبہ افراد کو 72 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا یا رہا کرنا لازم ہوتا تھا۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کے تحریری حکم کے بغیر کسی قیدی کی رہائی ممکن نہیں ہوگی، چاہے ابتدائی تفتیش میں شواہد ناکافی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس فیصلے کے بعد پولیس اور استغاثہ کے وہ اختیارات ختم ہو گئے ہیں جن کے تحت وہ بعض حالات میں مشتبہ افراد کو رہا کر سکتے تھے۔
افغان میڈیا کے مطابق ماضی میں پولیس شواہد کی کمی کی صورت میں مشتبہ شخص کو چھوڑ سکتی تھی، جبکہ استغاثہ کو بھی 15 دن کے اندر زیرِ حراست افراد کو رہا کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ یہ طریقہ کار سابق افغان حکومت کے پینل کوڈ کی شق 88 کے تحت نافذ تھا، جس میں غیر ضروری حراست سے بچنے پر زور دیا گیا تھا۔
تاہم طالبان کے زیر انتظام وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ کے مطابق سابقہ پینل کوڈ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ نئے قوانین اور احکامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے حکم نامے سے افغانستان میں قانونی عمل، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی کی بہتری اور جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد کو کے تحت گیا ہے
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل