ناسا کی سب سے بڑی تحقیقی لائبریری بند، ہزاروں کتب اور دستاویزات کو خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ناسا کی سب سے بڑی تحقیقی لائبریریوں میں سے ایک کو بند کر دیا گیا، جس کے باعث ہوا بازی اور خلانوردی (ایروناٹکس اور ایسٹروناٹکس) سے متعلق ہزاروں نایاب کتب، تحقیقی جرائد اور دستاویزات کو ضائع ہونے کا خدشہ لاحق ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ناسا میں مجوزہ بڑے بجٹ کٹوتیوں اور وسیع پیمانے پر ملازمین کی برطرفیوں کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
لائبریری میں موجود ہزاروں ایسی کتب اور دستاویزات شامل ہیں جو اب تک ڈیجیٹلائز نہیں کی جا سکیں اور نہ ہی کسی دوسری لائبریری میں دستیاب ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ناسا کے ترجمان نے بتایا ہے کہ آئندہ 60 دنوں میں لائبریری کے کیٹلاگ کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد کچھ مواد کو تلف کر دیا جائے گا جبکہ دیگر کو مختلف مراکز میں منتقل کیا جائے گا۔
یہ لائبریری میری لینڈ کے شہر گرین بیلٹ میں واقع ناسا کے گاڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں قائم تھی، جو دنیا کے بڑے خلائی تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ 1959 میں قائم ہونے والا یہ مرکز ناسا کے کئی اہم منصوبوں، جس میں ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی شامل ہے کی نگرانی کرتا ہے۔
ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ اقدام بندش نہیں بلکہ انضمام (کنسولیڈیشن) ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے کیا گیا تھا۔
ناسا کے نومنتخب سربراہ جیرڈ آئزک مین نے کہا ہے کہ لائبریری کے انضمام کا حکم بائیڈن انتظامیہ کے دور میں دیا گیا تھا، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ تمام قیمتی کتب اور ریکارڈز کو یا تو ڈیجیٹلائز کر لیا جائے گا یا محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔