ویکسین میں خودکفالت کی جانب پیش رفت، پاکستان سعودی اشتراک کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب آئندہ چند برسوں میں مشترکہ طور پر حفاظتی ویکسین کی تیاری کا آغاز کریں گے، جس کا ہدف 2030 مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ رابطے شروع ہو چکے ہیں اور خصوصی تکنیکی و پالیسی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو منصوبے کی عملی شکل تیار کریں گی۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں پمز برن سینٹر سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی، جہاں وفاقی وزیر صحت نے اراکین کو ویکسین پالیسی، حفاظتی ٹیکہ جات اور مستقبل کے منصوبوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سعودی عرب کی معاونت سے پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کو فروغ دیا جائے گا، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہو سکے گا۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق ویکسین سازی کے اس منصوبے پر پیش رفت کے لیے رواں ماہ سعودی عرب سے ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان کا دورہ بھی کرے گا، جو تکنیکی، مالی اور انتظامی پہلوؤں پر مشاورت کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی صحت پالیسی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا کیونکہ اس سے ملک کو طویل مدت میں ویکسین کے شعبے میں خودکفالت حاصل ہو سکے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی تیار کر لی گئی ہے، جس کا مقصد بچوں اور بڑوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی جانب سے بچوں کو 13 مختلف ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہیں جب کہ سروائیکل کینسر ویکسین کو بھی باقاعدہ طور پر روٹین ایمونائزیشن پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق اس وقت پاکستان کو عالمی شراکت داروں کے تعاون سے ویکسین فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم ملک میں مختلف بیماریوں کے لیے سالانہ تقریباً 114 ملین ڈوزز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان ہر سال تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کی ویکسین درآمد کرتا ہے، جب کہ 2030 میں عالمی معاونت ختم ہونے کے بعد یہ درآمدی بوجھ بڑھ کر سالانہ 1.
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اسی ممکنہ دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ 2030 سے قبل سعودی عرب کے تعاون سے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری شروع کی جائے تاکہ صحت کے شعبے کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے اور عوام کو بروقت اور محفوظ ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صحت کے
پڑھیں:
پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہےکہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی۔لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز سنیما انڈسٹری کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، نوجوان نسل کو ٹچ اسکرین سے نکال کر سنیما کی طرف لائیں گے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ڈرامے بنالیتےہیں تو اچھی فلم کیوں نہیں بناسکتے، اچھے ڈراموں کے ساتھ اچھی فلمیں بھی بنانا ہوں گی، نوجوان ہدایت کار فلمی دنیا میں نئی سوچ لے کر آئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے فلمی دنیا کو نئی سمت دی ہے، فلم کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، اچھے موضوعات پر معیاری فلمیں بناناہوں گی۔
پاکستان کی پرائیویٹ حج سکیم کے 3 منظمین کی پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی خوشی میں مکہ مکرمہ میں اظہار تشکر کی تقریب
ان کا کہنا تھا کہ پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، فلموں کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا جاسکتا ہے، فلم سٹی منصوبے میں تمام جدید سہولیات فراہم کریں گے، جو نوجوان فلم اور ڈرامہ پڑھ کر آرہے ہیں انہیں بھی موقع ملےگا۔
مزید :