امیتابھ کے نواسے کا بچن فیملی سے تعلق جوڑنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ابھرتے ہوئے بولی ووڈ اداکاراگستیا نندا نے اپنے خاندان کی شہرت اور اس کے دباؤ پر کھل کر بات کی۔
اگستیا نندا ایک بڑے فلمی خاندان کا حصہ ہیں۔ وہ بولی وڈ سپر اسٹارامیتابھ بچن کے نواسے اور اداکار ابھیشیک بچن کے بھانجے ہیں۔
اگستیا نندا نے اپنی تازہ ترین فلم ’اکیس‘ کے بعد میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ یہ فلم بایوگرافیکل وار ڈرامہ ہے۔ فلم یکم جنوری 2026 کو بھارتی تھیٹرز میں ریلیز ہوئی ہے۔
IMDb کے یوٹیوب چینل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں جب اگستیا سے پوچھا گیا کہ کیا ”لیجنڈز کے خاندان سے تعلق“ ہونے کی وجہ سے وہ دباؤ محسوس کرتے ہیں تو اس کے جواب میں اگستیا نے کہا، ’میں اس دباؤ کو بالکل بھی نہیں لیتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ میراث میری نہیں ہے۔ میرا خاندانی نام نندا اس لیے ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے والد کا بیٹا ہوں۔ میں اپنی توجہ صرف یہ رکھنے میں لگاتا ہوں کہ میں اپنے والد کو فخر محسوس کرواؤں اور یہی میراث میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’میرے خاندان کے دیگر افراد اداکار ہیں۔ میں ان کے کام کی تعریف کرتا ہوں اوراسے پسند کرتا ہوں۔ لیکن میں کبھی بھی وہ نہیں بن سکتا، اس لیے اس پر وقت ضائع کرنا بھی ضروری نہیں۔‘
اگستیا کی ڈیبیو فلم ’اکیس‘ سری رام راغوان کی ہدایت کاری میں بنی ہے۔ فلم میں دھرمیندر، اگستیا نندا، سمار بھاٹیہ اور جیدیب اہلاؤت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اگستیا نندا
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔