نائب چیئرمین سینیٹ کی سربراہی میں وفد امریکا کا دورہ کرے گا، مصروفیات کیا ہوں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
نائب چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سینیٹ وفد 20 سے 25 جنوری تک سرکاری دورے پر امریکا جائے گا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب 2025 کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس میں اعلیٰ سطحی روابط، اسٹریٹجک ازسرنو ترتیب اور خطے میں اہم پیش رفت شامل رہی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں پاکستانی سفیر کا نیویارک کمرشل آؤٹ ریچ دورہ،برآمدات بڑھانے پر بات چیت
سینیٹ سیکریٹریٹ نے اس دورے کو پاکستان اور امریکا کے پارلیمانی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دوطرفہ روابط میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز ہے۔
بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ امریکا کے تحت منظم کیا گیا ہے اور اس میں پہلی بار امریکا پاکستان بین الپارلیمانی گروپ بھی شامل ہوگا۔
سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پارلیمانی سفارتکاری میں ایک بڑی کامیابی ہے جو منتخب قانون ساز اداروں کے درمیان براہ راست روابط کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے ایک اہم مرحلے پر ہو رہا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تناظر میں۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آئندہ ہفتے امریکا کا دورہ کریں گے، دفتر خارجہ
سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق دورے کے واضح اسٹریٹجک اہداف طے کیے گئے ہیں، جن میں امریکی کانگریس اور سینیٹ آف پاکستان کے درمیان مستقل ادارہ جاتی نظام کے قیام کے ذریعے پارلیمانی مکالمے کو جاری رکھنا شامل ہے۔
وفد جمہوری اقدار کے فروغ، قانون سازی کے بہترین طریقوں کے تبادلے، پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے اور روایتی حکومتی سفارت کاری سے ہٹ کر ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ وفد پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں کرے گا تاکہ علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے پارلیمانی مؤقف کو اجاگر کیا جا سکے، جبکہ سائنسی، ثقافتی اور پالیسی سطح کے تعاون کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے 77 سالہ تعلقات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی پاکستانی پارلیمانی وفد کی امریکی کانگریس کے تحت ریبرن ہاؤس آفس بلڈنگ میں باضابطہ مصروفیات ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا
دورے کے دوران واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس اور میڈیا ملاقاتیں بھی ہوں گی، جبکہ نیو جرسی میں کمیونٹی اور پالیسی سطح کی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں، قانون سازی کے شعبے میں تعاون اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کی بنیاد رکھے گا، جو باہمی احترام، جمہوری اصولوں اور اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں امریکی کانگریس کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جسے کامیاب اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا تھا۔
امریکی وفد میں کانگریس مین جیک برگمین، ٹام سوزی اور جوناتھن جیکسن شامل تھے، جنہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان سیدال خان سینیٹ سیکریٹریٹ وفد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان سیدال خان سینیٹ سیکریٹریٹ وفد پاکستان اور امریکا کے سینیٹ سیکریٹریٹ ادارہ جاتی کے مطابق یہ دورہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔