نائب چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سینیٹ وفد 20 سے 25 جنوری تک سرکاری دورے پر امریکا جائے گا۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب 2025 کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس میں اعلیٰ سطحی روابط، اسٹریٹجک ازسرنو ترتیب اور خطے میں اہم پیش رفت شامل رہی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں پاکستانی سفیر کا نیویارک کمرشل آؤٹ ریچ دورہ،برآمدات بڑھانے پر بات چیت

سینیٹ سیکریٹریٹ نے اس دورے کو پاکستان اور امریکا کے پارلیمانی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دوطرفہ روابط میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز ہے۔

بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ امریکا کے تحت منظم کیا گیا ہے اور اس میں پہلی بار امریکا پاکستان بین الپارلیمانی گروپ بھی شامل ہوگا۔

سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پارلیمانی سفارتکاری میں ایک بڑی کامیابی ہے جو منتخب قانون ساز اداروں کے درمیان براہ راست روابط کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے ایک اہم مرحلے پر ہو رہا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تناظر میں۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آئندہ ہفتے امریکا کا دورہ کریں گے، دفتر خارجہ

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق دورے کے واضح اسٹریٹجک اہداف طے کیے گئے ہیں، جن میں امریکی کانگریس اور سینیٹ آف پاکستان کے درمیان مستقل ادارہ جاتی نظام کے قیام کے ذریعے پارلیمانی مکالمے کو جاری رکھنا شامل ہے۔

وفد جمہوری اقدار کے فروغ، قانون سازی کے بہترین طریقوں کے تبادلے، پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانے اور روایتی حکومتی سفارت کاری سے ہٹ کر ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ وفد پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں کرے گا تاکہ علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے پارلیمانی مؤقف کو اجاگر کیا جا سکے، جبکہ سائنسی، ثقافتی اور پالیسی سطح کے تعاون کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے 77 سالہ تعلقات کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی پاکستانی پارلیمانی وفد کی امریکی کانگریس کے تحت ریبرن ہاؤس آفس بلڈنگ میں باضابطہ مصروفیات ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا

دورے کے دوران واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس اور میڈیا ملاقاتیں بھی ہوں گی، جبکہ نیو جرسی میں کمیونٹی اور پالیسی سطح کی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں، قانون سازی کے شعبے میں تعاون اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کی بنیاد رکھے گا، جو باہمی احترام، جمہوری اصولوں اور اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں امریکی کانگریس کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جسے کامیاب اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا تھا۔

امریکی وفد میں کانگریس مین جیک برگمین، ٹام سوزی اور جوناتھن جیکسن شامل تھے، جنہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان سیدال خان سینیٹ سیکریٹریٹ وفد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاکستان سیدال خان سینیٹ سیکریٹریٹ وفد پاکستان اور امریکا کے سینیٹ سیکریٹریٹ ادارہ جاتی کے مطابق یہ دورہ

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی