بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل کیس میں 17 ملزمان نامزد
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش میں تفتیشی حکام نے انقلاب منچو تحریک کے نمایاں شاہد شریف عثمان بن ہادی کے قتل کے مقدمے میں 17 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث کسی فرد کو نہیں بخشا جائے گا، بنگلہ دیش
ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹیو برانچ کے مطابق یہ قتل مبینہ طور پر تیز الاسلام چوہدری کے حکم اور منصوبہ بندی پر کیا گیا جو ایک مقامی سیاسی شخصیت اور سابق وارڈ کونسلر رہ چکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی کو اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ کالعدم سیاسی گروہوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے اور آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ؔ
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم فیصل کریم اور اس کے 2 ساتھی جنہیں براہ راست اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا ہے تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کے بھارت فرار ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک اس مقدمے سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈھاکہ، انقلاب منچہ کے ترجمان عثمان ہادی پر حملے کے ملزمان کی شناخت ہوگئی
عثمان ہادی پر گزشتہ سال دسمبر میں ڈھاکا میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ رکشے میں سفر کر رہے تھے۔ شدید زخمی حالت میں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو اضافی چارج شیٹ بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی دہشتگردی کا شکار بنگلہ دیشی طالب علما رہنما عثمان ہادی کون تھا؟
یہ مقدمہ بنگلہ دیش میں خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عثمان ہادی کے حامی انصاف کی فوری فراہمی اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش عثمان ہادی عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش عثمان ہادی عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان گرفتار عثمان ہادی کے ہادی کے قتل بنگلہ دیش
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔