ایران (ویب دیسک) عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔

محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل