ایرانی چیف جسٹس کا ’فسادیوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ایران (ویب دیسک) عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کھلے عام عدم استحکام کی حمایت کی ہے جبکہ معاشی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر بےامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو عدالتی حکام کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین محسنی ایژئی نے کہا کہ بےامنی کے ادوار میں اسلامی نظام ہمیشہ ان افراد کو موقع دیتا ہے جو دھوکے میں آ گئے ہوں یا نادانستہ طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے ہوں تاکہ وہ فسادیوں سے خود کو الگ کر کے اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ روزگار اور معاشی فلاح و بہبود سے متعلق مظاہرین اور ناقدین کے تحفظات سنے جائیں گے، تاہم جو عناصر اس صورتحال کو بےامنی پھیلانے اور ملک و عوام کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور فسادیوں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے فسادیوں کو خبردار کیا کہ ماضی کے برعکس اس بار کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی کیونکہ موجودہ مرحلے پر ایرانی عوام کے اصل دشمن، یعنی امریکا اور صیہونی ریاست کھلے عام ملک میں بےامنی اور انتشار کی حمایت کر رہے ہیں۔
محسنی ایژئی نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں اٹارنی جنرل اور استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ فسادیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف قانون کے مطابق اور پوری سختی کے ساتھ کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں اس وقت احتجاج شروع ہوا جب تہران میں دکانداروں نے قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف عارضی طور پر کاروبار بند کر دیا، ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
ایرانی حکام نے عوام کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج جائز ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر صورتحال کا فائدہ اٹھا کر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔