پی ایس ایل کی 2 نئی فرنچائز کے لیے 10 بولی دہندگان کی فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی6 سے بڑھ کر 8 فرنچائزز تک توسیع کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اعلان کیا ہے کہ نئے فرنچائز لائسنس کے لیے بولی لگانے کے اہل 10 گروپس کی تصدیق کردی گئی ہے۔ بولی 8 جنوری کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہوگی اور کامیاب فرنچائزز پی ایس ایل 11 میں حصہ لیں گی، جو 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک شیڈول ہے۔
انویرکس (تجدیدی توانائی)انویرکس سولر انرجی، پاکستان کی معروف تجدیدی توانائی کمپنی، پی ایس ایل کی سابقہ اسپانسر شپ اور کارپوریٹ شراکت کے ساتھ نئے فرنچائز کے حصول کی خواہشمند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کی توسیع کی جانب اہم پیشرفت، 2 نئی ٹیموں کے لیے 10 بولی دہندگان شارٹ لسٹ
او زیڈ گروپ / اوزی ڈیویلپرز (ریئل اسٹیٹ)او زیڈ گروپ، جس کے چیئرمین حمزہ مجید ہیں، ریئل اسٹیٹ اور ڈیویلپمنٹ میں سرگرم ہے اور کھیل اور تفریحی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
وی جی او ٹیل (ٹیکنالوجی)کراچی کی موبائل ٹیکنالوجی کمپنی وی جی او ٹیل، سی ای او نوید گابا کی قیادت میں، پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی تجارتی اہمیت میں دلچسپی رکھتی ہے۔
جاز (ٹیلی کام)ٹیلیکوم کمپنی جاز، جو حالیہ سیزنز میں پی ایس ایل کی بڑی اسپانسر اور اسٹریٹیجک پارٹنر رہی ہے، نے بھی بولی کے لیے نامزدگی حاصل کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت، اہم پیشرفت سامنے آگئی
ڈی ایس ایم ترین گروپ (کاروبار / کھیل)سابق ملتان سلطانز کے مالک علی خان ترین کی قیادت میں، ترین گروپ دوبارہ پی ایس ایل میں فرنچائز کی ملکیت کے لیے دلچسپی رکھتی ہے۔
آئی ٹو سی (فِن ٹیک)عالمی فِن ٹیک پلیٹ فارم آئی ٹو سی، امریکی مقیم پاکستانی کاروباری شخصیت عامر ویئن کے زیر قیادت، پیمنٹ اور بینکنگ ٹیکنالوجی میں مہارت کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔
ویلی ٹیک (میڈیا اور فِن ٹیک)ویلی ٹیک، میڈیا اور فِن ٹیک کے شعبوں میں سرگرم، پی ایس ایل کے پلیٹ فارم سے ڈیجیٹل انگیجمنٹ بڑھانے کے خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل فرنچائزز کو فی ایڈیشن 85 کروڑ روپے کی ضمانت
پریزم ڈیویلپرز اینڈ ایکسچینج آن (ریئل اسٹیٹ / ٹیکنالوجی)پریزم ڈیویلپرز نے ایکسچینج آن کے ساتھ مل کر ریئل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
کنگز مین گروپ (سرمایہ کاری)کنگز مین گروپ، ایک سرمایہ کاری ہاؤس، فرنچائز ملکیت کو پاکستان کے ٹی 20 کرکٹ کے طویل مدتی اثاثے کے طور پر دیکھتی ہے۔
ایم نیکسٹ انک (ٹیکنالوجی اور اختراع)ایم نیکسٹ انک ٹیکنالوجی اور اختراع سیکٹر کی نمائندگی کرتی ہے جو کھیلوں کے پلیٹ فارمز کو برانڈنگ اور ترقی کے لیے دیکھ رہے ہیں۔
بولی کے کامیاب گروپس اور ہوم سٹیزبولی میں کامیاب گروپس نئے فرنچائز کے حقوق حاصل کریں گے اور پی سی بی کی منظور شدہ فہرست میں شامل شہروں میں سے اپنا ہوم سٹی منتخب کریں گے، جن میں راولپنڈی، فیصل آباد، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد اور گلگت شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بولی دہندگان پاکستان پی ایس ایل پی سی بی فہرست کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بولی دہندگان پاکستان پی ایس ایل پی سی بی فہرست کرکٹ پی ایس ایل کی سرمایہ کاری ریئل اسٹیٹ ف ن ٹیک کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔