دہلی ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج دہلی سے روانہ ہونے والی کم از کم بیس پروازیں اور دہلی پہنچنے والی کم از کم دو سو ساٹھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی اور ملک کے مختلف حصوں میں منگل کی صبح گھنے کہرے اور شدید سردی کے باعث فضائی اور ریل آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی۔ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حدِ بصارت کم ہو کر تقریباً 150 میٹر تک آ گئی، جس کے نتیجے میں 280 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کچھ پروازیں منسوخ بھی کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر صبح چار بجے کے بعد کہرے کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد کیٹ-تھری طریقہ کار کے تحت آلات کی مدد سے فلائٹ آپریشن شروع کیا گیا۔ اس طریقہ کار کے لئے نہ صرف رن وے بلکہ طیارے کا بھی خصوصی آلات سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پائلٹوں کو بھی اس نظام کے تحت لینڈنگ اور ٹیک آف کی باقاعدہ تربیت حاصل ہونی چاہیئے۔

دہلی ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج دہلی سے روانہ ہونے والی کم از کم بیس پروازیں اور دہلی پہنچنے والی کم از کم دو سو ساٹھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ کم بصارت کے باعث امرتسر، بھوپال، چندی گڑھ، گوہاٹی، وارانسی، رانچی، ہنڈن اور دھرم شالہ کے ہوائی اڈوں پر بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔ دوسری جانب نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی میں سردی کی شدت برقرار ہے۔ جنوری کے ابتدائی دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسطاً 17.

6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معمول سے کم ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوری کے پہلے پندرہ دن عموماً سب سے زیادہ سرد ہوتے ہیں اور اس دوران کم سے کم درجہ حرارت بھی نچلی سطح پر رہتا ہے۔

سردی اور کہرے کا اثر ریل آمد و رفت پر بھی پڑا۔ دہلی آنے اور جانے والی متعدد میل، ایکسپریس اور سپر فاسٹ ٹرینیں تاخیر سے چلیں، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی، غازی آباد، متھرا، میرٹھ، امبالہ اور پریاگ راج کے روٹس پر ٹرینوں کی تاخیر نمایاں رہی۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند دنوں تک موسم کی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، تاہم حدِ بصارت میں بہتری آنے کے بعد ہی فضائی اور ریل نظام مکمل طور پر معمول پر آ سکے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: والی کم از کم ہوائی اڈے کے مطابق

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود