دہلی میں گھنے کہرے اور شدید سردی سے فضائی و ریل نظام متاثر، 280 سے زائد پروازیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
دہلی ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج دہلی سے روانہ ہونے والی کم از کم بیس پروازیں اور دہلی پہنچنے والی کم از کم دو سو ساٹھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی اور ملک کے مختلف حصوں میں منگل کی صبح گھنے کہرے اور شدید سردی کے باعث فضائی اور ریل آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی۔ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حدِ بصارت کم ہو کر تقریباً 150 میٹر تک آ گئی، جس کے نتیجے میں 280 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کچھ پروازیں منسوخ بھی کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر صبح چار بجے کے بعد کہرے کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد کیٹ-تھری طریقہ کار کے تحت آلات کی مدد سے فلائٹ آپریشن شروع کیا گیا۔ اس طریقہ کار کے لئے نہ صرف رن وے بلکہ طیارے کا بھی خصوصی آلات سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے، جبکہ پائلٹوں کو بھی اس نظام کے تحت لینڈنگ اور ٹیک آف کی باقاعدہ تربیت حاصل ہونی چاہیئے۔
دہلی ہوائی اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق آج دہلی سے روانہ ہونے والی کم از کم بیس پروازیں اور دہلی پہنچنے والی کم از کم دو سو ساٹھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں۔ کم بصارت کے باعث امرتسر، بھوپال، چندی گڑھ، گوہاٹی، وارانسی، رانچی، ہنڈن اور دھرم شالہ کے ہوائی اڈوں پر بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔ دوسری جانب نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی میں سردی کی شدت برقرار ہے۔ جنوری کے ابتدائی دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسطاً 17.
سردی اور کہرے کا اثر ریل آمد و رفت پر بھی پڑا۔ دہلی آنے اور جانے والی متعدد میل، ایکسپریس اور سپر فاسٹ ٹرینیں تاخیر سے چلیں، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی، غازی آباد، متھرا، میرٹھ، امبالہ اور پریاگ راج کے روٹس پر ٹرینوں کی تاخیر نمایاں رہی۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند دنوں تک موسم کی صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے، تاہم حدِ بصارت میں بہتری آنے کے بعد ہی فضائی اور ریل نظام مکمل طور پر معمول پر آ سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: والی کم از کم ہوائی اڈے کے مطابق
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔