کراچی ایئرپورٹ سے جانے والی 12 پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
موسم کی خرابی کے باعث کراچی ایئر پورٹ سے جانے والی ملکی و غیرملکی 12 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن کی کراچی سے اسلام کی پرواز پی کے 300 آدھا گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی ایئر لائن کی کراچی سے پشاور کی پرواز 2 بج کر 45 منٹ پر شیڈول ہے۔
شدید دھند کے باعث ملک بھر کا فلائٹ آپریشن درہم برہم ہوگیا۔ ملک بھر کی 8 پروازیں منسوخ، 63 میں تاخیر، ایک کو متبادل ایئر پورٹ پر لینڈ کرایا گیا۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پر دھند کے باعث دبئی اور مسقط کی پرواز 2 گھنٹے تاخیر سے دوپہر 1 بجے لینڈ ہوئی۔
ملتان ایئرپورٹ سے جانے والی غیرملکی اور ملکی پروازیں کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی ایئر لائن کی اسلام آباد سے کراچی کی پرواز 2 گھنٹے تاخیر سے دن11 بجے روانہ ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پروازیں منسوخ کی پرواز کے باعث
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔