کاظم میثم کی بھرپور عوامی نمائندگی بعض عناصر کو ہضم نہیں ہو رہی، عقیل ایڈووکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ایم ڈبلیو ایم رہنما نے کہا کہ نگران وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ آئینی طور پر غیر سیاسی ہوتا ہے اور اس پر فائز شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ محمد علی قائد ایک سیاسی جماعت کے جنرل سیکریٹری ہیں، جبکہ وقار منڈوق کو کاظم میثم نے سیاسی کونسل سے مشاورت کے بعد اپنی فہرست میں سرِفہرست رکھا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما عقیل احمد ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بات تاحال سمجھ سے بالاتر ہے کہ امجد ایڈووکیٹ کس حیثیت سے کبھی محمد علی قائد اور کبھی وقار منڈوق کو وزیرِ اعلیٰ بنوانے یا نہ بننے دینے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کبھی نگر جا کر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر نے محمد علی قائد کو نگران وزیرِ اعلیٰ بننے نہیں دیا، اور کبھی بلتستان آ کر وقار منڈوق کا نام لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کاظم میثم نے انہیں وزیرِ اعلیٰ بننے سے روکا۔ یہ بیانات نہ صرف تضاد کا شکار ہیں بلکہ حقائق کے بھی منافی ہیں۔ عقیل احمد ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ نگران وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ آئینی طور پر غیر سیاسی ہوتا ہے اور اس پر فائز شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہو سکتا۔ محمد علی قائد ایک سیاسی جماعت کے جنرل سیکریٹری ہیں، جبکہ وقار منڈوق کو کاظم میثم نے سیاسی کونسل سے مشاورت کے بعد اپنی فہرست میں سرِفہرست رکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کے اعصاب پر کاظم میثم اس حد تک سوار ہو چکے ہیں کہ انہیں ہر جگہ اور ہر معاملے میں کاظم میثم ہی نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کاظم میثم نے بطور اپوزیشن لیڈر پورے گلگت بلتستان کی مؤثر اور جراتمندانہ نمائندگی کی، جو بعض عناصر کو ہضم نہیں ہو رہی۔ عقیل احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے سیاست کے آغاز سے لے کر اب تک عوام کو محض نعروں اور وعدوں کے ذریعے دھوکے میں رکھا، آج جب ان کے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں تو وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اپنی بچی کھچی سیاست بچانے کے لیے کاظم میثم کے خلاف بے بنیاد بیانات دیے جا رہے ہیں، تاہم عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد علی قائد کاظم میثم نے سیاسی جماعت وقار منڈوق نہیں ہو
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔