Islam Times:
2026-07-24@05:19:01 GMT

جولانی کی جولانیاں

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

جولانی کی جولانیاں

اسلام ٹائمز: اگرچہ شام کے بڑے علاقے اب بھی صیہونی قبضے میں ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان معمول کے معاہدے پر دستخط کے بعد، ملک اور شامی عوام کیلئے بہت زیادہ خطرناک منظرنامے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے مبصرین فلسطینی اتھارٹی اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونیوالے اوسلو معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس نے عملی طور پر فلسطینی اراضی پر حکومت کے قبضے کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ شام کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں جو بھی جائزے موجود ہیں، اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ جولانی شام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جیسا کہ اس نے پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اسے شامی عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کیلئے شام کا پورا علاقہ غیروں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔ تحریر: محمد رضا احمدی

اسرائیل، امریکہ اور جولانی حکومت کے حکام نے منگل کے روز ایک مشترکہ انٹیلی جنس تعاون کے طریقہ کار کے قیام کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے۔ اسرائیلی نیوز چینل I24 نے اطلاع دی ہے کہ یہ میکانزم امریکی نگرانی میں ایک خصوصی کمیونیکیشن روم کے ذریعے کام کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد معلومات کے تبادلے کو فوری اور مسلسل مربوط کرنا، فوجی تناؤ کو کم کرنا اور فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو روکنا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اسرائیلی حکام اور جولانی حکومت کے درمیان طب، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔ ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے راستے کو آگے بڑھاتے ہوئے سویلین تعاون کی حد کو جانچنے کے لیے یہ ایک ابتدائی قدم ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل، شام اور امریکا کے نمائندے باقاعدگی سے اس میکانزم کو مضبوط کریں گے اور ان میں سے کچھ اقدامات عملی طور پر کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مشترکہ کمیونیکیشن روم کسی تیسرے ملک میں واقع ہوگا، تاکہ مسلسل اور غیر جانبدارانہ سرگرمی کی اجازت دی جا سکے۔ یہ طریقہ کار تنازعات کے فوری حل، بحران کے انتظام اور فریقین کے درمیان سفارتی شراکت داری کو بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس دوران امریکہ مبصر اور ثالث کا کردار ادا کرے گا اور زمینی مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ دمشق پر حکمران مسلح باغیوں کا رہنماء جولانی جسں نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے سے پہلے صیہونیوں سے لڑنے کا وعدہ کیا تھا، اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرچکا ہے۔

جولانی جو قوم پرستانہ اشارے کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئے تھے، صیہونی حکومت کی جاری جارحیتوں اور قبضوں کے سامنے شروع ہی سے خاموش رہے اور درحقیقت اسرائیل کو ان اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے ہری جھنڈی دے دی۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت میں کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا اور محض بین الاقوامی برادری اور عرب لیگ سے درخواست کی کہ وہ شام کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کے خلاف کھڑے ہوں۔ جولانی کا یہ غیر مشروط طور پر صیہونی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور ایک سمجھوتے کے معاہدے کی بات جو مکمل طور پر یکطرفہ ہے، درحقیقت شام پر صیہونی قبضے اور تقسیم کا گیٹ وے سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل شام کی عبوری حکومت کے خلاف اپنی جارحیت اور دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ شام کے بڑے علاقے اب بھی صیہونی قبضے میں ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان معمول کے معاہدے پر دستخط کے بعد، ملک اور شامی عوام کے لیے بہت زیادہ خطرناک منظرنامے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے مبصرین فلسطینی اتھارٹی اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس نے عملی طور پر فلسطینی اراضی پر حکومت کے قبضے کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ شام کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں جو بھی جائزے موجود ہیں، اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ جولانی شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جیسا کہ اس نے پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اسے  شامی عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کے لیے شام کا پورا علاقہ غیروں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت شامی عوام کے درمیان حکومت کے کے لیے کرے گا شام کے شام کی

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش