Islam Times:
2026-07-24@07:57:01 GMT

جولانی کی جولانیاں

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

جولانی کی جولانیاں

اسلام ٹائمز: اگرچہ شام کے بڑے علاقے اب بھی صیہونی قبضے میں ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان معمول کے معاہدے پر دستخط کے بعد، ملک اور شامی عوام کیلئے بہت زیادہ خطرناک منظرنامے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے مبصرین فلسطینی اتھارٹی اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونیوالے اوسلو معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس نے عملی طور پر فلسطینی اراضی پر حکومت کے قبضے کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ شام کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں جو بھی جائزے موجود ہیں، اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ جولانی شام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جیسا کہ اس نے پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اسے شامی عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کیلئے شام کا پورا علاقہ غیروں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔ تحریر: محمد رضا احمدی

اسرائیل، امریکہ اور جولانی حکومت کے حکام نے منگل کے روز ایک مشترکہ انٹیلی جنس تعاون کے طریقہ کار کے قیام کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے۔ اسرائیلی نیوز چینل I24 نے اطلاع دی ہے کہ یہ میکانزم امریکی نگرانی میں ایک خصوصی کمیونیکیشن روم کے ذریعے کام کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد معلومات کے تبادلے کو فوری اور مسلسل مربوط کرنا، فوجی تناؤ کو کم کرنا اور فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو روکنا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اسرائیلی حکام اور جولانی حکومت کے درمیان طب، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔ ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے راستے کو آگے بڑھاتے ہوئے سویلین تعاون کی حد کو جانچنے کے لیے یہ ایک ابتدائی قدم ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل، شام اور امریکا کے نمائندے باقاعدگی سے اس میکانزم کو مضبوط کریں گے اور ان میں سے کچھ اقدامات عملی طور پر کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مشترکہ کمیونیکیشن روم کسی تیسرے ملک میں واقع ہوگا، تاکہ مسلسل اور غیر جانبدارانہ سرگرمی کی اجازت دی جا سکے۔ یہ طریقہ کار تنازعات کے فوری حل، بحران کے انتظام اور فریقین کے درمیان سفارتی شراکت داری کو بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس دوران امریکہ مبصر اور ثالث کا کردار ادا کرے گا اور زمینی مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ دمشق پر حکمران مسلح باغیوں کا رہنماء جولانی جسں نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے سے پہلے صیہونیوں سے لڑنے کا وعدہ کیا تھا، اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرچکا ہے۔

جولانی جو قوم پرستانہ اشارے کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئے تھے، صیہونی حکومت کی جاری جارحیتوں اور قبضوں کے سامنے شروع ہی سے خاموش رہے اور درحقیقت اسرائیل کو ان اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے ہری جھنڈی دے دی۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت میں کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا اور محض بین الاقوامی برادری اور عرب لیگ سے درخواست کی کہ وہ شام کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کے خلاف کھڑے ہوں۔ جولانی کا یہ غیر مشروط طور پر صیہونی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور ایک سمجھوتے کے معاہدے کی بات جو مکمل طور پر یکطرفہ ہے، درحقیقت شام پر صیہونی قبضے اور تقسیم کا گیٹ وے سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل شام کی عبوری حکومت کے خلاف اپنی جارحیت اور دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ شام کے بڑے علاقے اب بھی صیہونی قبضے میں ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان معمول کے معاہدے پر دستخط کے بعد، ملک اور شامی عوام کے لیے بہت زیادہ خطرناک منظرنامے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے مبصرین فلسطینی اتھارٹی اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس نے عملی طور پر فلسطینی اراضی پر حکومت کے قبضے کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ شام کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں جو بھی جائزے موجود ہیں، اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ جولانی شام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جیسا کہ اس نے پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اسے  شامی عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ اقتدار میں رہنے کے لیے شام کا پورا علاقہ غیروں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت شامی عوام کے درمیان حکومت کے کے لیے کرے گا شام کے شام کی

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع