کراچی، پولیس کی بڑی کارروائیاں: چار مختلف مقابلوں میں ایک ڈاکو ہلاک، 4 زخمیوں سمیت 6 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے مبینہ مقابلوں کے دوران ایک ڈاکو کو ہلاک جبکہ چار زخمیوں سمیت مجموعی طور پر چھ ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
گلشن معمار کے علاقے ناردرن بائی پاس ایم ڈی کٹ کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس میں ایک ڈاکو زخمی حالت میں جبکہ اس کا ساتھی گرفتار کر لیا گیا۔
زخمی ڈاکو ارمان اللہ کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ گرفتار ملزم بجران کو تھانے لے جایا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی، جبکہ ان کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ادھر عزیز بھٹی پولیس نے گلشن اقبال بلاک 10 میں عزیز بھٹی پارک کے قریب مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
مزید پڑھیںکراچی، شہر بھر میں چار پولیس مقابلے، 3 ڈاکو ہلاک، 6 زخمیوں سمیت 7 گرفتار، ایک فرار
کراچی، گلبرگ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، دو زخمیوں سمیت 3 ڈاکو گرفتار
گرفتار ملزمان سعید اور شیخ نظام الدین کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے دو پستول، موبائل فون، نقد رقم اور موٹرسائیکل برآمد ہوئی۔
پاکستان بازار پولیس نے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 14 میں مبینہ مقابلے کے دوران دو ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
زخمی ڈاکوؤں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جن کی شناخت مرتضیٰ اور آصف کے ناموں سے ہوئی ہے۔
کورنگی کے علاقے میں پولی ٹیکنیکل کالج کے قریب پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو ہلاک ہو گیا، جس کی لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ شناخت کا عمل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار اور ہلاک ملزمان مختلف اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث تھے اور شہر میں جرائم کے خاتمے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپتال منتقل زخمیوں سمیت ڈاکوؤں کو ایک ڈاکو کو ہلاک
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک