بیٹی کی شادی کی نجی تصاویر وائرل، بلال مقصود نے سوشل میڈیا صارفین سے کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
معروف موسیقار اور پروڈیوسر بلال مقصود نے بیٹی کی شادی کی تصاویر اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صارفین اور مختلف پیجز سے نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ خوشی کا موقع خاندان تک محدود رہنا چاہیے تھا، مگر چند تصاویر کے غیر ضروری پھیلاؤ نے صورتحال کو ناخوشگوار بنا دیا۔
بلال مقصود، جو نامور ادیب اور مزاح نگار انور مقصود کے صاحبزادے ہیں، نے شادی کی تقریب کے دوران انسٹاگرام پر ایک جذباتی تصویر شیئر کی تھی۔ اس تصویر میں وہ اپنے والد انور مقصود اور دونوں بیٹوں کے ساتھ تقریب میں ہم رنگ لباس پہنے نظر آئے۔ تصویر کے وائرل ہوتے ہی مداحوں کی جانب سے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
انہوں نے تصویر کے ساتھ لکھا تھا کہ ان کے بچے اور ان کے والد، بیٹی کی شادی کے اس خوشگوار لمحے میں ان کے ساتھ موجود ہیں۔ تاہم یہ خوشی اس وقت متاثر ہوئی جب مختلف سوشل میڈیا پیجز نے تقریب کی دیگر نجی تصاویر بھی بغیر اجازت شیئر کرنا شروع کر دیں۔
اس صورتحال پر بلال مقصود نے انسٹاگرام پر ایک علیحدہ پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مہمانوں نے تصاویر نیک نیتی سے بنائیں اور شیئر کیں، مگر ان کی خواہش ہے کہ اس تقریب کو نجی رکھا جائے۔
انہوں نے واضح انداز میں اپیل کی کہ صرف وہی تصاویر یا ویڈیوز دوبارہ شیئر کی جائیں جو وہ خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کریں۔
بلال مقصود نے آخر میں مداحوں اور پیجز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نجی زندگی کے احترام کی درخواست دہرائی۔
یاد رہے کہ بلال مقصود کی بیٹی زہرا حال ہی میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں، اس تقریب میں قریبی اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ زہرا کے غیر ملکی سسرالی رشتے دار بھی شریک تھے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بلال مقصود نے سوشل میڈیا کے ساتھ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔