ایمنسٹی کی 27ویں ترمیم پر شدید تنقید،ازسرنوجائزہ لینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-08-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں 5 روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔ منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔ تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔ ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔ ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔ عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمنسٹی انٹرنیشنل عدلیہ کی ا زادی ایمنسٹی نے 27ویں ترمیم نے کہا کہ کے مطابق قانون کی یہ ترمیم ترمیم کے کی گئی
پڑھیں:
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
(ویب ڈیسک)چترال، سوات، دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ کے نواحی علاقوں میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی جس کی زیر زمین گہرائی 191 کلو میٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کوہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل