پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے لابنگ فرم استعمال کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: گزشتہ سال پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ بندی کے تناظر میں جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے انتظام کے لیے ایک لابنگ فرم کو استعمال کیا گیا۔ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ان ملاقاتوں کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سے منسلک لابنگ فرم ایس ایچ ڈبلیو سے رابطہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق لابنگ فرم کی جانب سے امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی سفارتخانے نے 10 مئی کو آپریشن سندور کے معاملے پر امریکی حکام سے بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا۔ ان ملاقاتوں میں جے شنکر، بھارتی خارجہ سیکرٹری وکرم مصری، ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر پون کمار اور واشنگٹن میں بھارتی سفیر ونے کواترا کی شرکت متوقع تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جن امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے رابطہ کیا گیا، ان میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن رکی گل شامل تھے۔
دستاویزات کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد آپریشن سندور سے متعلق میڈیا کوریج پر بات چیت کرنا تھا۔
بھارتی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بھارتی سفارتخانے کے مطابق لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنا معمول کی بات ہے، تاہم ترجمان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے رابطے کے لیے لابنگ فرم کیوں ہائر کی گئی۔
ایک اور بھارتی صحافی نے لکھا کہ جے شنکر جے ڈی وینس اور پیٹر ہیگسیتھ سے براہ راست ملاقات کا بندوبست نہ کر سکے، جس کے باعث لابنگ فرم کی خدمات لینا پڑیں۔ صحافی کے مطابق بھارتی میڈیا عام طور پر جے شنکر کو ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے جو محض فون اٹھا کر امریکا میں کسی بھی اعلیٰ عہدیدار سے بات کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی حکام سے ملاقاتوں لابنگ فرم کی ملاقاتوں کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :