اسرائیل اور شام کا امریکی ثالثی میں خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل اور شام نے امریکا کی ثالثی میں ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد انٹیلی جنس اور سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانا، کشیدگی میں کمی لانا اور ممکنہ سکیورٹی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس پیش رفت کے حوالے سے امریکا، اسرائیل اور شام کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ رابطہ سیل فوجی کشیدگی میں کمی، سفارتی روابط کے فروغ اور ممکنہ تجارتی مواقع میں مدد فراہم کرے گا۔
بیان کے مطابق اسرائیل اور شام کے درمیان گزشتہ ایک سال سے وقفے وقفے سے مذاکرات جاری تھے، جن کا مقصد ایسا سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا تھا جو شام پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کا خاتمہ کر سکے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ نیا میکنزم کسی بھی ممکنہ تنازعے کو فوری طور پر حل کرنے اور غلط فہمیوں سے بچاؤ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
یہ پیش رفت پیرس میں اسرائیلی اور شامی حکام کے درمیان ہونے والے حالیہ اجلاسوں کے بعد سامنے آئی، جن میں شامی وزیر خارجہ بھی شریک تھے۔
امریکا نے اسرائیل اور شام کے درمیان اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل 1967 سے شامی گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس نے مزید شامی علاقوں پر بھی قبضہ کیا، جن میں اسٹریٹجک جبل الشیخ بھی شامل ہے۔ اس دوران اسرائیل نے دمشق میں شامی وزارت دفاع سمیت متعدد اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیل نئی شامی قیادت کو انتہا پسند قرار دیتا رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھل کر شامی صدر کی حمایت کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل اور شام
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔