وینزویلا کے بعد ٹرمپ کا نیا ہدف، گرین لینڈ پر قبضے کیلئے عسکری آپریشن پر غور شروع
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاملے میں سفارتی اور دیگر راستوں کے ساتھ ساتھ عسکری آپشن پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا امریکa کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنے موجودہ دورِ حکومت میں ہی گرین لینڈ کے معاملے کو کسی نتیجے تک پہنچانا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ اپنے مشیروں کے ساتھ مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی آپشنز میں ڈنمارک سے گرین لینڈ کو خریدنے یا جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی (Free Association) کا معاہدہ کرنے جیسے امکانات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق معاملہ تاحال بند نہیں ہوا، اور نیٹو ممالک کے بعض رہنماؤں کے تحفظات کے باوجود صدر ٹرمپ اس جزیرے کو حاصل کرنے کے لیے خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔