موبائل صارفین کیلئے چونکا دینے والی رپورٹ، 10 کروڑ فونز بلاک ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک بھر میں مالی سال 2024–25 کے دوران تقریباً 10 کروڑ موبائل ڈیوائسز بلاک کیں۔بلاک ہونے والے موبائل فونز میں 8 لاکھ 68 ہزار گمشدہ یا چوری شدہ ہینڈ سیٹ، 7 کروڑ 20 لاکھ جعلی یا نقل ڈیوائسز اور 2 کروڑ 70 لاکھ وہ موبائل فون شامل ہیں جن کے آئی ایم ای آئی نمبرز ڈوپلیکیٹ یا کلون تھے۔پی ٹی اے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کے نفاذ کے ذریعے موبائل ڈیوائس مینجمنٹ کے نظام کو مضبوط بنانے میں اتھارٹی نے انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ اس نظام کی بدولت جعلی اور غیر معیاری موبائل فونز کی درآمد میں نمایاں کمی آئی، صارفین کے حقوق کا تحفظ بہتر ہوا، موبائل فون مارکیٹ کو دستاویزی شکل ملی اور قومی خزانے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل ڈیوائس مینجمنٹ ریگولیشنز 2021، جو ڈربز کی بنیاد پر متعارف کرائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔