خیبر پختونخوا: ضم اضلاع کے ترقیاتی پیکیج سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پشاور:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضم اضلاع کے ترقیاتی پیکیج کی تیاری سے متعلق اجلاس ہوا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم اضلاع کی معاشی ترقی کے لیے 6 تھیمیٹک ایریاز میں سرمایہ کاری کی جائے گی، پیکیج کا حجم ایک ہزار ارب روپے ہوگا جس کا نام "روښانه قبائل " (روشن قبائل) رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ پیکیج کے تحت بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور روزگار پر سرمایہ کاری کی جائے گی، وزیر اعلیٰ نے پیکیج میں قبائل میڈیکل کالج، انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن سائنسز اور ڈیجیٹل سیٹیز کے قیام کو شامل کرنے کی ہدایت کردی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جن اضلاع اورتحصیلوں میں ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتال نہیں انکا قیام پیکیج میں شامل کیا جائے، ہر ضم ضلع میں ایک اسپورٹس کمپلیکس اور تحصیل میں اسپورٹس گراؤنڈ قائم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہدایت دی کہ بازاروں اور ضم اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں کو سیف سٹی میں شامل کیا جائے، بازاروں، اسکولوں اور مراکز صحت کی شمسی توانائی پر منتقلی کو بھی پیکیج میں شامل کیا جائے۔ ہر تحصیل میں یتیم خانہ، پناہ گاہ اور ریسکیو 1122 اسٹیشن کا قیام بھی پیکیج میں شامل کیا جائے۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیکج کے تحت ضم اضلاع میں 1245 نئے پرائمری اسکولوں کا قیام ، 463 پرائمری، 85 مڈل اسکولوں کی اپگریڈشن کی جائے گی، 975 پرائمری اسکولوں ، 240 مڈل اسکولوں اور 125 ہائی اسکولوں کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں 11500 اساتذہ کی بھرتی، مختلف اسکالرشپس کی فراہمی بھی پیکج میں شامل ہے، ضم اضلاع میں مراکز صحت کی بحالی و فعالی، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن سنٹرز کا قیام بھی پیکج میں شامل ہے۔
بریفنگ کے مطابق ضم اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر کی تعمیر ، چیک ڈیمز کی تعمیر، آبپاشی انفراسٹرکچر کی تعمیر، پینے کے پانی کی فراہمی بھی پیکیج کا حصہ ہے۔ صنعتی انفراسٹرکچر کا قیام، اسکولوں ، مراکز صحت، اور بازاروں کی سولرائزیشن عمل میں لائی جائے گی۔
زراعت و لائیو اسٹاک، جنگلات ، کھیل و امور نوجوانان کے شعبوں میں اقدامات بھی پیکیج کا حصہ ہیں جبکہ بلدیات، ریلیف، ایس ٹی آئی ٹی کے شعبوں میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں شامل کیا جائے ضم اضلاع میں پیکیج میں بھی پیکیج کا قیام جائے گی
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔