اسلام آباد میں راک کلائمبنگ چیمپئن شپ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد میں راک کلائمبنگ چیمپئن شپ کا آغاز ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق الپائن کلب آف پاکستان اور انٹرپروونشل کوآرڈینیشن ڈویژن کے اشتراک سے ایک شاندار راک کلائمبنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا جس نے ملک بھر سے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
اس مقابلے میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پاکستان کے تمام صوبوں سے لڑکوں اور لڑکیوں نے بھرپور شرکت کی اور اپنی غیر معمولی مہارت، طاقت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
یہ چیمپئن شپ راک کلائمبنگ اور کوہ پیمائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں خود اعتمادی، برداشت اور چیلنج قبول کرنے کے جذبے کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔
https://dailymumtaz.
الپائن کلب آف پاکستان کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عرفان نے کہا کہ باصلاحیت نوجوانوں کے لیے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
سیکریٹری آئی پی سی ڈویژن محی الدین وانی نے اس اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس اور نوجوانوں کے بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راک کلائمبنگ چیمپئن شپ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔