data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی ریاست ہریانہ میں ایک غیر معمولی خاندانی کہانی اس وقت توجہ کا مرکز بن گئی جب ایک جوڑے کے ہاں مسلسل 10 بیٹیوں کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ یہ واقعہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی دلچسپی اور بحث کا باعث بنا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق 37 سالہ خاتون کی شادی 2007 میں 38 سالہ سنجے کمار سے ہوئی تھی۔ تقریباً 19 برس کے ازدواجی سفر کے دوران جوڑے کے ہاں یکے بعد دیگرے 10 بیٹیاں پیدا ہوئیں، جس کے بعد اب انہیں بیٹے کی نعمت حاصل ہوئی ہے۔

سنجے کمار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ طویل عرصے سے بیٹے کے منتظر تھے اور ان کی بیٹیاں بھی ایک بھائی کی خواہش رکھتی تھیں، جو اب پوری ہو گئی ہے۔

سنجے کمار کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی بیٹی بارہویں جماعت کی طالبہ ہے جبکہ باقی بیٹیوں میں سے زیادہ تر اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں، وہ اپنی تمام بیٹیوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں اور انہیں خودمختار اور باوقار زندگی دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔

یہ خاندان اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا جب ایک انٹرویو کے دوران سنجے کمار اپنی تمام بیٹیوں کے نام یکدم یاد نہ رکھ سکے۔ میڈیا نمائندے کی جانب سے سوال پر وہ چند لمحوں کے لیے الجھن کا شکار نظر آئے، جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا صارفین میں دلچسپی کا موضوع بن گئی۔

تاہم سنجے کمار نے واضح کیا کہ نام بھول جانا محبت یا ذمہ داری میں کمی کی علامت نہیں، بلکہ بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ایسا ہو جانا فطری بات ہے۔

دوسری جانب خاتون کی زچگی کرنے والی ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ ڈیلیوری طبی اعتبار سے نہایت حساس اور خطرناک مرحلہ تھی، تاہم بروقت طبی سہولیات اور احتیاطی تدابیر کے باعث ماں اور نومولود دونوں محفوظ رہے، اس وقت ماں اور بچہ مکمل طور پر صحت مند ہیں، جس پر اہلِ خانہ نے سکون کا اظہار کیا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک عجیب و دلچسپ خاندانی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ بھارت میں بیٹیوں کی تعلیم اور خاندانی رویوں پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیٹیوں کے کے بعد

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی