پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، کے ایس ای 100 نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران تیزی کا غیر معمولی سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز بھی بازار حصص میں شاندار ریکارڈ ساز تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور اعتماد کے اظہار نے مارکیٹ میں مثبت فضا کو مزید مضبوط کیا، جس کے اثرات پورے کاروباری سیشن کے دوران نمایاں رہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں معاشی اشاریوں میں بہتری، مستقبل کی پالیسیوں سے متعلق توقعات اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی دستیابی نے سرمایہ کاروں کو متحرک کر رکھا ہے۔
کاروباری ہفتے کے مسلسل تیسرے دن بازار حصص میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی، جہاں بدھ کے روز پی ایس ایکس میں 1704 پوائنٹس کی بڑی تیزی ریکارڈ ہوئی۔ اس تیزی کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 87 ہزار 766 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح تک جا پہنچا ۔
کاروبار کے دوران اگرچہ انڈیکس میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا، تاہم مجموعی رجحان مثبت ہی رہا۔ مارکیٹ میں کچھ منافع خوری کے باعث انڈیکس ایک موقع پر نیچے آیا، لیکن اس کے باوجود یہ ایک لاکھ 85 ہزار 671 پوائنٹس جیسی بلند سطح پر برقرار رہا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا دباؤ اب بھی غالب ہے۔
واضح رہے کہ رواں کاروباری ہفتے کے ابتدائی دو دن، پیر اور منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے نتیجے میں انڈیکس نے ایک کے بعد ایک ریکارڈ قائم کیا۔ مسلسل تین دن کی تیزی نے مارکیٹ میں ایک نئی امید اور اعتماد کی فضا قائم کر دی ہے، جسے سرمایہ کار مستقبل کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔