data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسمارٹ فون جدید زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ موبائل فون سے حد سے زیادہ وابستگی ایک سنگین ذہنی مسئلے کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

یو اے ای میں ماہرِ نفسیات نے نوموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فون کے بغیر رہنے پر گھبراہٹ اور بے چینی محض عادت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ذہنی عارضہ بن سکتا ہے۔

طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو ’’نوموفوبیا‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے موبائل فون کے بغیر رہنے کا غیر منطقی خوف۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق امریکا میں 94 فیصد موبائل صارفین کسی نہ کسی حد تک اس مسئلے سے متاثر ہیں جب کہ مشرقِ وسطیٰ خصوصاً یو اے ای میں بھی یہی علامات تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد اس مسئلے کو پہچان ہی نہیں پاتے۔

این ایم سی رائل اسپتال ابوظبی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز کے مطابق کلینک میں شاذ و نادر ہی کوئی مریض نوموفوبیا کی شکایت لے کر آتا ہے، مگر نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، توجہ میں کمی اور ذہنی دباؤ جیسی علامات واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فون کے زیادہ استعمال کا نہیں بلکہ توازن کھو دینے کا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں میں موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال خراب نیند اور ذہنی دباؤ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ جب فون کے بغیر رہنا روزمرہ زندگی، تعلقات اور کام پر منفی اثر ڈالنے لگے تو یہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فون سے دوری پر شدید گھبراہٹ، نیند متاثر ہونا اور گھریلو تنازعات ایسے خطرے کے اشارے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فون کے بغیر موبائل فون

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟