مناظرہ…دلائل اور شواہد (دوسری قسط)
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
جاوید اختر نے مناظرے میں خدا کے وجود پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا خدا ہے جس کے ہوتے ہوئے غزہ میں معصوم بچے ہلاک ہوگئے ، اس نے اتنا بڑا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا مگر اس ظلم کو روکا نہیں۔ دوسری جانب بھی بھارت کا ایک مسلمان بیٹھا تھا جو اپنی مجبوریوں کے باعث حقائق بتانے سے گریزاں رہا، ورنہ دوسری جانب کسی اور ملک کا باشندہ ہوتا تو جاوید اختر سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتا کہ آپ یہ بات نیک نیّتی سے یا شہدائے غزہ کی ہمدردی میں ہر گز نہیں کہہ رہے، کیونکہ آپ کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا قاتل وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے سب سے قریبی دوست اور اتحادی ہیں، بھارت کا اسرائیل کے ساتھ ملٹری الائنس ہے اور اسرائیل کے تمام شیطانی ہتھکنڈوں میں بھارت کی حکومت کا مکمل تعاون اور سپورٹ شامل ہوتی ہے، آپ نے ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل کی درندگی میں پوری طرح ساتھ دینے پر کبھی نریندر مودی کی مذمّت کی ہے؟ آپ نے کبھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات ختم کردے؟ بالکل نہیں۔ آپ نے تو کبھی اسرائیل کی مذمّت بھی نہیں کی ۔
اس کے علاوہ آپ کی حکومت اور آپ کی فورسز ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمتیں پامال کر چکی ہیں۔ کیا آپ نے انسانی ہمدردی کے تحت کبھی کشمیر کی مظلوم خواتین کے حق میں آواز اٹھائی ہے؟ بے شمار کشمیری نوجوان کئی کئی سالوں سے بھارت کی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ آپ کے اندر کبھی انسانیت جاگی ہے اور آپ کے منہ سے ان بے گناہوں کے لیے ہمدردی کا کبھی ایک لفظ بھی نکلا ہے؟ ہر گز نہیں۔ جاوید اختر کو یہ بھی بتانا ضروری تھا اور شاید تمام ملحدین یہ سن کر چونک اٹھیں کہ وہ اوصاف جنھوں نے انسان کو حیوانوں سے ممتاز کیا ہے اور انسانی معاشروں کو وحشیانہ خون ریزی سے بچانے اور اسے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ تمام اوصاف کسی بے جان فطرت اور بے شعور کائنات نے نہیں خالق ِکائنات نے عطا کیے ہیں۔ عدل، انصاف، رحم، انسانی مساوات اور انسانی ہمدردی جیسے اعلیٰ ترین تصورات انسانی نہیں آسمانی ہیں، یہ کسی یونانی، ایرانی یا یورپی فلسفی کے ایجاد کردہ تصورات نہیں ہیں۔
ان تمام تصورات سے کائنات کے خالق نے اپنی نازل کردہ کتابوں کے ذریعے انسانوں کو روشناس کرایا ہے، ورنہ انسان تو قبضہ کرنے، غلبہ پانے اور حریف کو بے رحمی سے ختم کردینے کا رجحان رکھتا ہے۔ صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جاوید اختر کے ہم مذہبوں (یعنی خدا کے منکروں) نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے، انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبرو ریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور جب خدا کے ماننے والے فتح یاب ہوئے تو مکّہ میں اٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم ؐ کی آواز گونجی، لاتثریب علیکم الیوم۔ بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا ۔’’جاؤ تمہیں معاف کیا، تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا‘‘۔ فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔
وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظمؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمے داری ہے‘‘۔ قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ یہ کون سی تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خدا کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
آسمانوں سے انسانوں کے لیے اترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔
جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو! وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زد تمہارے عزیز واقارب پر یا تمہارے والدین پر یا تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘ اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِ مطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے، جی نہیں آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالتمآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘ Equality before law کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔ آپؐ کے بعد آپ کے جلیل القدر ساتھی عمرؓ (فاروق اعظمؓ) نے اپنے بیٹے کے جسم پر کوڑے کی ضربات سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کے سارے باب لکھ دیے اور پھر چڑھنے والے ہر دن کی ہر گھڑی باب العلم حضرت علی مرتضیٰؓ کے ان الفاظ کی صداقت ثابت کررہی ہے کہ ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم اور ناانصافی کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔ دنیائے الحاد کا دامن ایسی سنہری مثالوں سے بالکل خالی ہے۔
اب آئیں جاوید اختر کی ’’سب سے بڑی دلیل‘‘ پر کہ چونکہ غزہ میں اتنے ہزار بچے شہید ہوگئے اور خدا نے انھیں بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا لہٰذا میں خدا کو نہیں مانتا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہزاروں سالوں سے ملحد یہی بات کرتے آرہے ہیں، مگر وہ مناظروں میں حصہ لے کر اپنے حریف کو لاجواب کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر اخلاص اور صاف دلی کے ساتھ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ کوشش کی ان میں سے بہت سوں کو جواب بھی مل گیا اور روشنی اور منزل بھی مل گئی۔ جاوید اختر اور دوسرے ملحدین کو بھی اس سوال کا جواب اللہ کی آخری کتاب میں مل سکتا ہے۔ بلکہ اگر وہ اخلاص کے ساتھ کوشش کریں گے تو ان کا تصوّرِ خدا بھی درست ہوجائے گا، اس وقت ان کے ذہن میں خدا کا تصوّر کسی بڑے پیر یا کسی بادشاہ یا حکمران سے ملتا جلتا ہے جو انسانوں کے سے جذبات رکھتا ہے اور انسانوں ہی کی طرح سوچتا ہے مگر آسمانی کتابوں نے جو اس کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ زمین وآسمان اور یہ کائنات اس نے تخلیق کی ہے۔ زندگی، موت، عزت اور ذلت بھی وہی دیتا ہے۔
تمام جہانوں کا وہی پالنہار ہے، وہی رزق دیتا ہے اور وہی قادرِ مطلق ہے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ یعنی انسانوں کے پاس جو جائیداد یا مال ودولت ہے وہ اس کے مالک نہیں ہیں۔ اصل مالک وہی قادرِ مطلق ہے اور دنیا میں انسانوں کی اولاد کا مالک بھی وہی خالقِ کائنات ہے۔ مالک عارضی طور پر کچھ چیزیں اپنے غلاموں کو عنایت کرتا ہے مگر جب اس کا جی چاہے واپس بھی لے لیتا ہے۔ یہ اعتقاد بہت بڑی نعمت ہے، یہی نظریہ اور یہی faith بہت بڑے بڑے حادثوں میںاہلِ ایمان کو صبر اور حوصلہ دیتا ہے۔
غزہ میں بھی چھ چھ سات سات آٹھ آٹھ بیٹوں کی شہادت پر کوئی ماں پاگل نہیں ہوئی، کسی کا ذہنی توازن خراب نہیں ہوا۔ ان ماؤں کی بہت بڑی اکثریت بچوں کی لاشوں پر کھڑی ہوکر اعلان کرتی رہی کہ ’’ہمارے بیٹے اللہ کا دیا ہوا تحفہ تھے جنھیں اس نے واپس لے لیا، ہمارے بیٹے شہید ہوئے ہیں، ہم جنت میں پہنچ کر ان کے ساتھ ضرور ملیں گے‘‘۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی رہیں کہ یا الٰہی ! تونے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو وہ ان کی مدد کے لیے پہنچیںمگر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں میں سے کسی نے بھی ہماری کوئی مدد نہیں کی، انھیں ضرور سزا دینا۔ خالقِ کائنات ہر ظلم پر خود intervene نہیں کرتا، یہ اس کی مشیّت ہے جو اس کی ذات کی طرح انسانی ادراک سے باہر ہے مگر وہ ظلم سے لاتعلّق نہیں رہتا، وہ ظلم کو روکنے کا حکم دیتاہے۔ تمام مسلمانوں کو بھی اور تمام انسانوں کو بھی۔ بالآخروہ اپنے مقرّر کردہ یومِ حساب پر ظلم کا نشانہ بننے پرصبر کرنے والوں کو بے اندازہ اجر دے گا اور دوسری طرف ظالم کو عبرتناک سزا دے گا اور ظلم نہ روکنے اور مظلوم کی مدد نہ کرنے والوں کو بھی کڑی سزا دے گا۔
(جاری ہے)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسانوں کے انسانوں کو جاوید اختر کی حکومت کا تصو ر ہے اور ا دیتا ہے کے لیے ہے مگر خدا کے کو بھی
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔