مناظرہ…دلائل اور شواہد (دوسری قسط)
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
جاوید اختر نے مناظرے میں خدا کے وجود پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا خدا ہے جس کے ہوتے ہوئے غزہ میں معصوم بچے ہلاک ہوگئے ، اس نے اتنا بڑا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا مگر اس ظلم کو روکا نہیں۔ دوسری جانب بھی بھارت کا ایک مسلمان بیٹھا تھا جو اپنی مجبوریوں کے باعث حقائق بتانے سے گریزاں رہا، ورنہ دوسری جانب کسی اور ملک کا باشندہ ہوتا تو جاوید اختر سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتا کہ آپ یہ بات نیک نیّتی سے یا شہدائے غزہ کی ہمدردی میں ہر گز نہیں کہہ رہے، کیونکہ آپ کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا قاتل وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے سب سے قریبی دوست اور اتحادی ہیں، بھارت کا اسرائیل کے ساتھ ملٹری الائنس ہے اور اسرائیل کے تمام شیطانی ہتھکنڈوں میں بھارت کی حکومت کا مکمل تعاون اور سپورٹ شامل ہوتی ہے، آپ نے ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل کی درندگی میں پوری طرح ساتھ دینے پر کبھی نریندر مودی کی مذمّت کی ہے؟ آپ نے کبھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات ختم کردے؟ بالکل نہیں۔ آپ نے تو کبھی اسرائیل کی مذمّت بھی نہیں کی ۔
اس کے علاوہ آپ کی حکومت اور آپ کی فورسز ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمتیں پامال کر چکی ہیں۔ کیا آپ نے انسانی ہمدردی کے تحت کبھی کشمیر کی مظلوم خواتین کے حق میں آواز اٹھائی ہے؟ بے شمار کشمیری نوجوان کئی کئی سالوں سے بھارت کی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ آپ کے اندر کبھی انسانیت جاگی ہے اور آپ کے منہ سے ان بے گناہوں کے لیے ہمدردی کا کبھی ایک لفظ بھی نکلا ہے؟ ہر گز نہیں۔ جاوید اختر کو یہ بھی بتانا ضروری تھا اور شاید تمام ملحدین یہ سن کر چونک اٹھیں کہ وہ اوصاف جنھوں نے انسان کو حیوانوں سے ممتاز کیا ہے اور انسانی معاشروں کو وحشیانہ خون ریزی سے بچانے اور اسے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ تمام اوصاف کسی بے جان فطرت اور بے شعور کائنات نے نہیں خالق ِکائنات نے عطا کیے ہیں۔ عدل، انصاف، رحم، انسانی مساوات اور انسانی ہمدردی جیسے اعلیٰ ترین تصورات انسانی نہیں آسمانی ہیں، یہ کسی یونانی، ایرانی یا یورپی فلسفی کے ایجاد کردہ تصورات نہیں ہیں۔
ان تمام تصورات سے کائنات کے خالق نے اپنی نازل کردہ کتابوں کے ذریعے انسانوں کو روشناس کرایا ہے، ورنہ انسان تو قبضہ کرنے، غلبہ پانے اور حریف کو بے رحمی سے ختم کردینے کا رجحان رکھتا ہے۔ صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جاوید اختر کے ہم مذہبوں (یعنی خدا کے منکروں) نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے، انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبرو ریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور جب خدا کے ماننے والے فتح یاب ہوئے تو مکّہ میں اٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم ؐ کی آواز گونجی، لاتثریب علیکم الیوم۔ بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا ۔’’جاؤ تمہیں معاف کیا، تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا‘‘۔ فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔
وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظمؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمے داری ہے‘‘۔ قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمد فاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ یہ کون سی تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خدا کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
آسمانوں سے انسانوں کے لیے اترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔
جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو! وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زد تمہارے عزیز واقارب پر یا تمہارے والدین پر یا تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘ اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِ مطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے، جی نہیں آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالتمآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘ Equality before law کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔ آپؐ کے بعد آپ کے جلیل القدر ساتھی عمرؓ (فاروق اعظمؓ) نے اپنے بیٹے کے جسم پر کوڑے کی ضربات سے انصاف اور قانون کی حکمرانی کے سارے باب لکھ دیے اور پھر چڑھنے والے ہر دن کی ہر گھڑی باب العلم حضرت علی مرتضیٰؓ کے ان الفاظ کی صداقت ثابت کررہی ہے کہ ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم اور ناانصافی کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔ دنیائے الحاد کا دامن ایسی سنہری مثالوں سے بالکل خالی ہے۔
اب آئیں جاوید اختر کی ’’سب سے بڑی دلیل‘‘ پر کہ چونکہ غزہ میں اتنے ہزار بچے شہید ہوگئے اور خدا نے انھیں بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا لہٰذا میں خدا کو نہیں مانتا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہزاروں سالوں سے ملحد یہی بات کرتے آرہے ہیں، مگر وہ مناظروں میں حصہ لے کر اپنے حریف کو لاجواب کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر اخلاص اور صاف دلی کے ساتھ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ کوشش کی ان میں سے بہت سوں کو جواب بھی مل گیا اور روشنی اور منزل بھی مل گئی۔ جاوید اختر اور دوسرے ملحدین کو بھی اس سوال کا جواب اللہ کی آخری کتاب میں مل سکتا ہے۔ بلکہ اگر وہ اخلاص کے ساتھ کوشش کریں گے تو ان کا تصوّرِ خدا بھی درست ہوجائے گا، اس وقت ان کے ذہن میں خدا کا تصوّر کسی بڑے پیر یا کسی بادشاہ یا حکمران سے ملتا جلتا ہے جو انسانوں کے سے جذبات رکھتا ہے اور انسانوں ہی کی طرح سوچتا ہے مگر آسمانی کتابوں نے جو اس کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ زمین وآسمان اور یہ کائنات اس نے تخلیق کی ہے۔ زندگی، موت، عزت اور ذلت بھی وہی دیتا ہے۔
تمام جہانوں کا وہی پالنہار ہے، وہی رزق دیتا ہے اور وہی قادرِ مطلق ہے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ یعنی انسانوں کے پاس جو جائیداد یا مال ودولت ہے وہ اس کے مالک نہیں ہیں۔ اصل مالک وہی قادرِ مطلق ہے اور دنیا میں انسانوں کی اولاد کا مالک بھی وہی خالقِ کائنات ہے۔ مالک عارضی طور پر کچھ چیزیں اپنے غلاموں کو عنایت کرتا ہے مگر جب اس کا جی چاہے واپس بھی لے لیتا ہے۔ یہ اعتقاد بہت بڑی نعمت ہے، یہی نظریہ اور یہی faith بہت بڑے بڑے حادثوں میںاہلِ ایمان کو صبر اور حوصلہ دیتا ہے۔
غزہ میں بھی چھ چھ سات سات آٹھ آٹھ بیٹوں کی شہادت پر کوئی ماں پاگل نہیں ہوئی، کسی کا ذہنی توازن خراب نہیں ہوا۔ ان ماؤں کی بہت بڑی اکثریت بچوں کی لاشوں پر کھڑی ہوکر اعلان کرتی رہی کہ ’’ہمارے بیٹے اللہ کا دیا ہوا تحفہ تھے جنھیں اس نے واپس لے لیا، ہمارے بیٹے شہید ہوئے ہیں، ہم جنت میں پہنچ کر ان کے ساتھ ضرور ملیں گے‘‘۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی رہیں کہ یا الٰہی ! تونے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو وہ ان کی مدد کے لیے پہنچیںمگر دنیا بھر کے مسلمان ملکوں میں سے کسی نے بھی ہماری کوئی مدد نہیں کی، انھیں ضرور سزا دینا۔ خالقِ کائنات ہر ظلم پر خود intervene نہیں کرتا، یہ اس کی مشیّت ہے جو اس کی ذات کی طرح انسانی ادراک سے باہر ہے مگر وہ ظلم سے لاتعلّق نہیں رہتا، وہ ظلم کو روکنے کا حکم دیتاہے۔ تمام مسلمانوں کو بھی اور تمام انسانوں کو بھی۔ بالآخروہ اپنے مقرّر کردہ یومِ حساب پر ظلم کا نشانہ بننے پرصبر کرنے والوں کو بے اندازہ اجر دے گا اور دوسری طرف ظالم کو عبرتناک سزا دے گا اور ظلم نہ روکنے اور مظلوم کی مدد نہ کرنے والوں کو بھی کڑی سزا دے گا۔
(جاری ہے)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسانوں کے انسانوں کو جاوید اختر کی حکومت کا تصو ر ہے اور ا دیتا ہے کے لیے ہے مگر خدا کے کو بھی
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔