میری تصاویر کیساتھ بھیک مانگی جارہی ہے، بشریٰ انصاری کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
سینئر پاکستانی اداکارہ بشریٰ انصاری نے سوشل میڈیا پر اپنی فیک اکاؤنٹس بنانے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بے شرم لوگوں کی کمی نہیں ہے ، میرے نام سے آئی ڈیز بناکر بھیک مانگی جارہی ہے۔
نامور اداکارہ ابشریٰ انصاری نے جعلی اکاؤنٹس سے حد درجہ تنگ آ چکی ہیں کہ وہ انہیں ’ سستے ہتھکنڈے‘ قرار دیتی ہیں، انہوں نے انسٹاگرام پر ایک سخت وارننگ اور کھری کھری سنانے والی ویڈیو جاری کر دی۔
https://www.instagram.com/reel/DTJEAJ4DCtc/
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’انسٹاگرام‘ پر اداکارہ نے ’اب سوشل میڈیا پر بھکاری میری جعلی آئی ڈیز استعمال کر رہے ہیں، براہِ کرم انہیں فالو نہ کریں‘، کے کیپشن سے ایک ویڈیو شیئر کی۔
ویڈیو میں بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر میرے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹس میری تصاویر استعمال کرکے بھیک مانگ رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جمعرات خیرات کا دن ہے، جب کہ کچھ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ’غریبوں اور بیواؤں کی مدد‘ کے لیے این جی او قائم کررہی ہیں۔
انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا ’اس دنیا میں بے شرم لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے‘۔
اداکارہ نے ویڈیو پیغام میں ایک تازہ جعلی اکاؤنٹ کی نشاندہی بھی کی، جس میں ان کی نئی تصویر استعمال کی گئی ہے، وہ تصویر جس میں انہوں نے بندی لگائی ہوئی ہے۔
انہوں نے مداحوں کو خبردار کیا کہ وہ اس دھوکے میں نہ آئیں اور یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب وہ اس مسئلے پر آواز اٹھا رہی ہیں۔
https://www.instagram.com/reel/DTJA7ukkkKY/ان کا کہنا تھا کہ میں اس سے پہلے بھی ایسی ویڈیوز بناچکی ہوں کہ براہِ کرم میری جعلی آئی ڈیز کو فالو نہ کریں، نہ جانے کیسے، یہ لوگ میری نجی تصاویر انسٹاگرام سے اٹھا لیتے ہیں اور پھر انہی کے ذریعے پیسے مانگتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اکاؤنٹس کو مسلسل رپورٹ اور بلاک کرنے کے باوجود یہ مسئلہ ختم نہیں ہو رہا۔ یہ بھی واضح کیا کہ اگر وہ کبھی کسی کی مدد کرتی ہیں تو وہ ذاتی طور پر کرتی ہیں، اور انہوں نے کبھی بھی عوام سے فنڈز اکٹھے نہیں کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔