گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
فرانس اور جرمنی سمیت امریکا کے یورپی اتحادی اس امکان پر قریبی مشاورت کر رہے ہیں کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی پر عمل کیا تو اس کا مشترکہ ردِعمل کیا ہوگا۔
رائٹرز کی خبر کے مطابق اگر امریکا نے اپنے دیرینہ اتحادی ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے گرین لینڈ پر فوجی قبضہ کیا تو اس کے نتیجے میں نیٹو اتحاد کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی حکمت عملی میں روس کے لیے نرم مؤقف، یورپی ممالک میں تشویش بڑھ گئی
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بیرو نے کہا ہے کہ اس معاملے پر جرمنی اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کوئی بھی قدم اکیلے نہیں بلکہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اٹھانا چاہتا ہے۔
یورپ کی بڑی طاقتوں اور کینیڈا نے بھی اس ہفتے گرین لینڈ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جزیرہ اس کے عوام کا ہے۔ یہ ردِعمل صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ کے باشندوں کا ٹرمپ کو منہ توڑ جواب
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں، جس کا اظہار وہ 2019 میں بھی کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ امریکی فوجی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ڈنمارک اس کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ ڈنمارک نے روسی اور چینی بحری جہازوں کی موجودگی کے امریکی دعوؤں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ پر کہا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔